سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب في صلاة الليل
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1356
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أَمْسَى، فَقَالَ:" أَصَلَّى الْغُلَامُ؟" قَالُوا: نَعَمْ،" فَاضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَامَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَبْعًا أَوْ خَمْسًا أَوْتَرَ بِهِنَّ لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ کے پاس رہا، شام ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا بچے نے نماز پڑھ لی؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1356]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ رات ہو چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا لڑکے نے نماز پڑھ لی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ گئے حتیٰ کہ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا جو اللہ نے چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات یا پانچ رکعات پڑھیں اور انہیں وتر بنایا اور ان رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (درمیان میں) کوئی تشہد نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الأذان 57 (697)، سنن النسائی/الإمامة 22 (807)، (تحفة الأشراف:5496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/341، 354)، دی/الطہارة 3 (684) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (117)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1705
| قام من الليل فاستن ثم صلى ركعتين ثم نام ثم قام فاستن ثم توضأ فصلى ركعتين حتى صلى ستا ثم أوتر بثلاث وصلى ركعتين |
سنن النسائى الصغرى |
1716
| يوتر بسبع أو بخمس لا يفصل بينهن بتسليم |
سنن أبي داود |
1356
| توضأ ثم صلى سبعا أو خمسا أوتر بهن لم يسلم إلا في آخرهن |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1356 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1356
1356. اردو حاشیہ: فائدہ: گھر والوں کی بالخصوص ماں کی ذمہ داری ہے کہ نوخیز بچوں کی نماز اور دیگر اعمال خیر کا عادی بنائے اور والد یا سرپرست کا حق ہے کہ ان امور کے متعلق خبردار رہے یا باز پرس کرتا رہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1356]
Sunan Abi Dawud Hadith 1356 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي