سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْقَصْدِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 1369
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَجَاءَهُ، فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي؟" قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ، قَالَ:" فَإِنِّي أَنَامُ، وَأُصَلِّي، وَأَصُومُ، وَأُفْطِرُ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان! کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی ہے؟“، انہوں نے جواب دیا: نہیں اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، ایسی بات نہیں، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، عثمان! تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے، تمہاری جان کا حق ہے، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1369]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلوایا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! کیا تم نے میری سنت (طور طریقے) سے اعراض کر لیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، قسم اللہ کی! اے اللہ کے رسول! بلکہ میں تو آپ کی سنت ہی کا متلاشی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں تو سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں۔ روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں۔ عورتوں سے نکاح بھی کیا ہے۔ پس اللہ سے ڈرو، اے عثمان! یقیناً تمہارے گھر والوں کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے۔ لہٰذا روزے رکھو اور چھوڑ بھی دیا کرو۔ نماز پڑھا کرو اور سویا بھی کرو۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/226، 286) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت میں میانہ روی بہتر ہے اور بال بچوں سے کنارہ کشی اور رہبانیت اسلام کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (6/268)
ابن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (6/268)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1369
| إني أنام أصلي وأصوم أفطر وأنكح النساء لأهلك عليك حقا لضيفك عليك حقا لنفسك عليك حقا صم وأفطر وصل ونم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1369 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1369
1369. اردو حاشیہ: فائدہ: اللہ کی عبادت اورریاضت میں اپنی جان کو گھلا دینا اور مشروع دنیاوی امور سے منہ موڑ لینا دین نہیں، بلکہ بے دینی ہے۔ اہل کتاب میں یہ کیفیت ”رہبانیت“ کہلاتی تھی جس کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1369]
Sunan Abi Dawud Hadith 1369 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق