سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب في قيام شهر رمضان
باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1377
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" مَا هَؤُلَاءِ؟" فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَابُوا، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا". قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِالْقَوِيِّ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ رہے ہیں، آپ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے، لہٰذا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”انہوں نے ٹھیک کیا اور ایک بہتر کام کیا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے اس لیے کہ مسلم بن خالد ضعیف ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1377]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ رمضان میں مسجد کی ایک جانب میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کو کیا ہے؟“ کہا گیا کہ ان لوگوں کو قرآن یاد نہیں ہے اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں تو یہ لوگ بھی ان کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے درست کیا اور بہت خوب کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ مسلم بن خالد ضعیف ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:14094) (ضعیف)» (اس کے راوی مسلم متکلم فیہ ہیں، مولف نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شاھد قوي عند البيهقي (2/495) من حديث ثعلبة بن أبي مالك رضي الله عنه وله رؤية فالحديث حسن
وللحديث شاھد قوي عند البيهقي (2/495) من حديث ثعلبة بن أبي مالك رضي الله عنه وله رؤية فالحديث حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1377
| أصابوا ونعم ما صنعوا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1377 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1377
1377. اردو حاشیہ: فائدہ: اس روایت کو شیخ البانی نے سنن ابوداؤد میں ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن اپنی ہی کتاب صلوۃ التراویح میں اسے بطور متابع اور شاہد کے قابل قبول قرار دیا ہے اور ایک حسن درجے کی مرسل روایت کی بنیاد پر اس واقعے کی اصلیت کو تسلیم کیا ہے جس سے صلوۃ تراویح کا تقریری ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےمہیا ہوتا ہے۔ (دیکھئے: صلاۃ التراویح، للالبانی ص:9)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1377]
Sunan Abi Dawud Hadith 1377 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي