🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب كراهية المسألة
باب: بھیک مانگنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1643
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: وَكَانَ ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَكْفُلُ لِي أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟" فَقَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا، فَكَانَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا.
ثوبان رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟، ثوبان نے کہا: میں (ضمانت دیتا ہوں)، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1643]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو مولیٰ (غلام اور خادم) تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے یہ ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگے گا تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دوں؟ تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، چنانچہ وہ کسی سے کچھ نہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:2083)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 86 (2591)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 25 (1837)، مسند احمد (5/275، 276، 279، 281) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1857)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو العالية الرياحي، أبو العالية
Newأبو العالية الرياحي ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أبو العالية الرياحي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عاصم الأحول
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن
👤←👥عبيد الله بن معاذ العنبري، أبو عمرو
Newعبيد الله بن معاذ العنبري ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2591
من يضمن لي واحدة وله الجنة
سنن أبي داود
1643
من تكفل لي أن لا يسأل الناس شيئا وأتكفل له بالجنة
سنن ابن ماجه
1837
من يتقبل لي بواحدة وأتقبل له بالجنة لا تسأل الناس شيئا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1643 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1643
1643. اردو حاشیہ: لوگوں سے نہ مانگنا اپنے وسیع تر معنی میں غیر اللہ نہ مانگنے کو بھی شامل ہے۔جو عین توحید ہے۔اور داخلہ جنت کی ضمانت بھی ادھر ہمارا معاشرہ ہے کہ غیر اللہ سے مانگنے کےلئے جگہ جگہ شرک کے دربار لگے ہیں۔جہاں سادہ لوح لوگوں کی پونجی دائو پر لگتی ہے۔العیاذ باللہ۔ او ر پیشہ ور سوالیوں کو اپنے عمل کی بُرائی اور انجام بد کی خبر ہی نہیں۔ <عربی> (لاحول ولا قوۃ الا باللہ ]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1643]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2591
لوگوں سے کچھ نہ مانگنے والے کی فضیلت کا بیان۔
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے (یحییٰ کہتے ہیں: یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ) وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2591]
اردو حاشہ:
جنت کا وعدہ معمولی بات نہیں مگر کسی سے کچھ نہ مانگنے کی پابندی بھی بہت مشکل امر ہے۔ اس کے لیے جس حوصلے اور ضبط و توکل کی ضرورت ہے وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ خال خال ہی لوگ ایسے مل سکتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2591]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1837
سوال کرنا اور مانگنا مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں، میں نے عرض کیا: میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو، چنانچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1837]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
استغناء دخول جنت کا باعث ہے۔
جو کام انسان خود کرسکتا ہو اس کے لیے کسی کی مدد نہ لینا افضل ہے۔
صحابہ کرام ؓ ارشاد نبوی پر زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک عمل پیرا رہتے تھے۔
اس حدیث سے حضرت ثوبان کی عظمت اور شان کا اظہار ہوتا ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جنت کا وعدہ حاصل ہوا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1837]

Sunan Abi Dawud Hadith 1643 in Urdu