یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب التعريف باللقطة
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1705
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ:" سِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ"، وَلَمْ يَقُلْ: خُذْهَا فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ، وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ:" عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا"، وَلَمْ يَذْكُرْ: اسْتَنْفِقْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ مِثْلَهُ، لَمْ يَقُولُوا: خُذْهَا.
اس سند سے بھی مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ: ”وہ اپنی سیرابی کے لیے پانی پر آ جاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے“، اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں «خذها» (اسے پکڑ لو) کا لفظ نہیں ہے، البتہ لقطہٰ کے سلسلے میں فرمایا: ”ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کر لو“، اس میں «استنفق» کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «خذها» کا لفظ نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1705]
جناب مالک رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اسی سند سے اسی کے ہم معنی روایت کیا اور مزید کہا: ”(اس کے ساتھ) اس کا مشکیزہ ہے، وہ پانی پر پہنچ کر پانی پی لے گا اور جھاڑیاں کھا کر گزارہ کر لے گا۔“ اور گمشدہ بکری کے سلسلے میں «خُذْهَا» ”اسے لے لو“ کے لفظ روایت نہیں کیے اور گری پڑی چیز «لُقَطَةٌ» کے بارے میں فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر اگر اس کا مالک آ جائے (تو بہتر) ورنہ تم جانو (یعنی اس کے مالک بن جاؤ)“ اور ”خرچ کر لینے“ کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اسے ثوری، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے ربیعہ سے اسی کے مثل روایت کیا اور انہوں نے «خُذْهَا» کا لفظ نہیں کہا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:3763) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه البخاري (2429) ومسلم (1722) وانظر الحديث السابق (1704)
أخرجه البخاري (2429) ومسلم (1722) وانظر الحديث السابق (1704)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة حافظ | |
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر أحمد بن عمرو القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1705 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1705
1705. اردو حاشیہ:
➊ بکری جیسا ضعیف جانور جو زیادہ بھوک پیاس برداشت نہیں کر سکتا اور درندوں وغیرہ سے دفاع نہیں کر سکتا اگر اسے قبضے میں نہ لیا جائے تو ضائع ہو جائے گا لہذا یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ اسے چھوڑا جائے مگر اونٹ کامعاملہ اس سے مختلف ہے اس لیے جائز نہیں کہ انسان اس کو اپنے قبضے میں لے لے۔الایہ کہ اندیشہ ہو کہ فاسق یا چور ڈاکو وغیرہ اڑالے جائیں گے یا یہ از خود دشمنوں کے علاقے میں چلا جائے گا تو محفوظ کر لینا زیادہ بہتر ہے۔بشرطیکہ ظن غالب یہ ہو کہ یہ جانور کسی مسلمان ہی کا ہے۔والله اعلم .
➋ اس روایت میں راویوں نے «خذها» اسے لے لو اور «استنفق» اس سے فائدہ اٹھاؤ کے الفاظ بیان نہیں کیے جبکہ یہ الفاظ صحیح بخاری میں موجود ہیں۔دیکھیے (صحیح البخاری اللقطة باب ضالة الغنم حدیث:2428]
➊ بکری جیسا ضعیف جانور جو زیادہ بھوک پیاس برداشت نہیں کر سکتا اور درندوں وغیرہ سے دفاع نہیں کر سکتا اگر اسے قبضے میں نہ لیا جائے تو ضائع ہو جائے گا لہذا یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ اسے چھوڑا جائے مگر اونٹ کامعاملہ اس سے مختلف ہے اس لیے جائز نہیں کہ انسان اس کو اپنے قبضے میں لے لے۔الایہ کہ اندیشہ ہو کہ فاسق یا چور ڈاکو وغیرہ اڑالے جائیں گے یا یہ از خود دشمنوں کے علاقے میں چلا جائے گا تو محفوظ کر لینا زیادہ بہتر ہے۔بشرطیکہ ظن غالب یہ ہو کہ یہ جانور کسی مسلمان ہی کا ہے۔والله اعلم .
➋ اس روایت میں راویوں نے «خذها» اسے لے لو اور «استنفق» اس سے فائدہ اٹھاؤ کے الفاظ بیان نہیں کیے جبکہ یہ الفاظ صحیح بخاری میں موجود ہیں۔دیکھیے (صحیح البخاری اللقطة باب ضالة الغنم حدیث:2428]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1705]
Sunan Abi Dawud Hadith 1705 in Urdu
عبد الله بن وهب القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي