یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب التعريف باللقطة
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1707
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ رَبِيعَةَ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:"تُعَرِّفُهَا حَوْلًا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا عَرَفْتَ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ أَفِضْهَا فِي مَالِكَ فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (لقطے کے متعلق) پوچھا گیا پھر راوی نے ربیعہ کی طرح حدیث ذکر کی اور کہا: لقطے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک تم اس کی تشہیر کرو، اب اگر اس کا مالک آ جائے تو تم اسے اس کے حوالہ کر دو، اور اگر نہ آئے تو تم اس کے ظرف اور سر بندھن کو پہچان لو پھر اسے اپنے مال میں ملا لو، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کو دے دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1707]
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا اور ربیعہ کی حدیث کے مانند ذکر کیا (سابقہ حدیث: 1704)، کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پس اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کے سپرد کر دو، نہیں تو اس کا بندھن اور برتن خوب یاد کر لو اور اسے اپنے مال میں شامل کر لو، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کو دے دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1704)، (تحفة الأشراف:3763) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1704) ورواه إبراهيم بن طھمان في المشيخة (4 وسنده حسن/ معاذ)
انظر الحديث السابق (1704) ورواه إبراهيم بن طھمان في المشيخة (4 وسنده حسن/ معاذ)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1707
| تعرفها حولا فإن جاء صاحبها دفعتها إليه وإلا عرفت وكاءها وعفاصها ثم أفضها في مالك فإن جاء صاحبها فادفعها إليه |
Sunan Abi Dawud Hadith 1707 in Urdu
يزيد مولى المنبعث ← زيد بن خالد الجهني