سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب تفريق الوضوء
باب: وضو میں اعضاء کو الگ الگ دھونا (تاکہ کوئی عضو خشک نہ رہ جائے)۔
حدیث نمبر: 175
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بُجَيْرٍ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّ وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 175]
خالد (خالد ابن معدان) رحمہ اللہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ اس کے پاؤں میں درہم کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، اسے پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو اور نماز کے اعادے کا حکم دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبواداود، (تحفة الأشراف: 15559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/23) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خشک جگہ دھونے کا حکم نہیں دیا، بلکہ پورا وضو کرنے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کے اعضاء پے در پے مسلسل دھونے چاہئیں، اور ان کے درمیان فاصلہ نہیں ہونا چاہئے، یعنی اعضاء وضو کے دھونے میں فصل جائز نہیں، اس مسئلہ میں دونوں طرح کے اقوال ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اگر زیادہ تاخیر نہ ہوئی ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
بقية بن الوليد صرح بالسماع عند احمد (3/ 424) وروايته عن بحير محمولة علي السماع سواء صرح بالسماع أم لا، انظر تعليق ابن عبدالھادي علي العلل لابن ابي حاتم (ص 124 ح 35/ 123) وذم الكلام للھروي (3/ 123)، وللحديث شواهد
بقية بن الوليد صرح بالسماع عند احمد (3/ 424) وروايته عن بحير محمولة علي السماع سواء صرح بالسماع أم لا، انظر تعليق ابن عبدالھادي علي العلل لابن ابي حاتم (ص 124 ح 35/ 123) وذم الكلام للھروي (3/ 123)، وللحديث شواهد
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥اسم مبهم | 0 | |
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله خالد بن معدان الكلاعي ← اسم مبهم | ثقة | |
👤←👥بحير بن سعد السحولي، أبو خالد بحير بن سعد السحولي ← خالد بن معدان الكلاعي | ثقة ثبت | |
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد بقية بن الوليد الكلاعي ← بحير بن سعد السحولي | صدوق كثير التدليس عن الضعفاء | |
👤←👥حيوة بن شريح الحضرمي، أبو العباس حيوة بن شريح الحضرمي ← بقية بن الوليد الكلاعي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
175
| يصلي وفي ظهر قدمه لمعة قدر الدرهم لم يصبها الماء فأمره النبي أن يعيد الوضوء والصلاة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 175 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 175
فوائد و مسائل:
➊ معلوم ہوا کہ وضو میں تسلسل لازم ہے۔
➋ اگر کوئی شخص تسلسل قائم نہ رکھے اور کچھ اعضا دھو کر اٹھ جائے حتی کہ پہلے والے اعضا خشک ہو جائیں تو اسے وضو دوبارہ کرنا چائیے۔
➌ معمولی جگہ بھی خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا اور پھر نماز بھی نہ ہو گی۔
➊ معلوم ہوا کہ وضو میں تسلسل لازم ہے۔
➋ اگر کوئی شخص تسلسل قائم نہ رکھے اور کچھ اعضا دھو کر اٹھ جائے حتی کہ پہلے والے اعضا خشک ہو جائیں تو اسے وضو دوبارہ کرنا چائیے۔
➌ معمولی جگہ بھی خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا اور پھر نماز بھی نہ ہو گی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 175]
Sunan Abi Dawud Hadith 175 in Urdu
خالد بن معدان الكلاعي ← اسم مبهم