🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. باب الوضوء من لحوم الإبل
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو (ٹوٹ جانے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 184
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: تَوَضَّئُوا مِنْهَا، وَسُئِلَ عَنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: لَا تَوَضَّئُوا مِنْهَا، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: لَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کرو، اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو نہ کرو، آپ سے اونٹ کے باڑے (بیٹھنے کی جگہ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے، اور آپ سے بکریوں کے باڑے (رہنے کی جگہ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 184]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: آیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو لازم آتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کیا کرو۔ سوال کیا گیا کہ: بکری کے گوشت سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو نہ کرو۔ اور سوال ہوا کہ: کیا اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھیں؟ فرمایا: اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھا کرو، بیشک یہ شیطانوں میں سے ہیں۔ اور پوچھا گیا کہ: بکریوں کے باڑے میں نماز (پڑھیں یا نہ؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں نماز پڑھ لیا کرو، بیشک یہ مبارک ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 60 (81)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 67 (494)، (تحفة الأشراف: 1783)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/288)، ویأتی المؤلف برقم: (493) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: اونٹ حلال جانور ہے مگر اس کا گوشت کھانے سے وضو کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مقدس ہے۔ اس میں کیا حکمت یا کیا علت ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمارے لیے تو اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا» رسول جو تمہیں دیں، وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جاؤ (سورۃ الحشر، ۷) بکریاں پالنا باعث برکت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الأعمش صرح بالسماع وللحديث شاهد عند مسلم (360)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥ابن سرية الرازي، أبو جعفر
Newابن سرية الرازي ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← ابن سرية الرازي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← محمد بن خازم الأعمى
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
81
عن الوضوء من لحوم الإبل قال توضئوا منها سئل عن الوضوء من لحوم الغنم قال لا تتوضئوا منها
سنن أبي داود
184
عن الوضوء من لحوم الإبل قال توضئوا منها سئل عن لحوم الغنم قال لا توضئوا منها سئل عن الصلاة في مبارك الإبل قال لا تصلوا في مبارك الإبل فإنها من الشياطين سئل عن الصلاة في مرابض الغنم قال صلوا فيها فإنها بركة
سنن أبي داود
493
لا تصلوا في مبارك الإبل فإنها من الشياطين سئل عن الصلاة في مرابض الغنم فقال صلوا فيها فإنها بركة
سنن ابن ماجه
494
عن الوضوء من لحوم الإبل قال توضئوا منها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 184 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 184
فوائد و مسائل:
➊ اونٹ حلال جانور ہے مگر اس کا گوشت کھانے سے وضو کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مقدس ہے۔ اس میں کیا حکمت یا علت ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمارے لیے تو اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا» [59-الحشر:7] رسول جو تمہیں دے وہ لے لو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ۔
➋ بکریاں پالنا باعث برکت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 184]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 493
اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ (باڑے) میں نماز پڑھنے کی ممانعت۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کے باڑوں (بیٹھنے کی جگہوں) میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہوں میں نماز نہ پڑھو اس لیے کہ وہ شیطانوں میں سے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہاں نماز پڑھو، اس لیے کہ یہ باعث برکت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 493]
493۔ اردو حاشیہ:
یہ حکم اونٹوں کے باڑے سے متعلق ہے، جہاں انہیں رات کو باندھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جگہ میں جہاں ایک دو اونٹ ہوں، وہاں جائز ہے بلکہ اسے سترہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 493]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 81
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو نہ کرو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 81]
اردو حاشہ:
1؎:
لوگ اوپر والی روایت کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہاں وضو سے مراد وضو لغوی ہے،
لیکن یہ بات درست نہیں،
اس لیے کہ وضو ایک شرعی لفظ ہے جسے بغیر کسی دلیل کے لغوی معنی پر محمول کرنا درست نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 81]

Sunan Abi Dawud Hadith 184 in Urdu