سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب في رفع اليدين إذا رأى البيت
باب: خانہ کعبہ (بیت اللہ) کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1872
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، وَهَاشِمٌ يَعْنِيَ ابْنَ الْقَاسِمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ"، قَالَ: وَ الْأَنْصَارُ تَحْتَهُ، قَالَ هَاشِمٌ: فَدَعَا وَحَمِدَ اللَّهَ وَدَعَا بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا، راوی کہتے ہیں: اور انصار آپ کے نیچے تھے، ہاشم کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1872]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، پس مکہ میں داخل ہوئے، پھر حجرِ اسود کی طرف تشریف لائے، اسے بوسہ دیا۔ پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی جانب آئے اور اس کے اوپر چڑھ گئے جہاں سے بیت اللہ آپ کو نظر آ رہا تھا، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیے اور اللہ کا ذکر کرتے رہے جس قدر کہ اللہ نے چاہا اور دعا کرتے رہے۔ اور انصار آپ کے ساتھ تھے۔“ راویِ حدیث ہاشم نے کہا: ”دعا فرمائی، اللہ کی حمد کی اور جو چاہا دعا کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (1871)، (تحفة الأشراف: 13562) (صحیح)» (حدیث میں واقع جملہ «والأنصار تحته» پر کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله والأنصار تحته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح مسلم (1780)
مشكوة المصابيح (2575)
مشكوة المصابيح (2575)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1872
| دخل مكة فأقبل رسول الله إلى الحجر فاستلمه ثم طاف بالبيت ثم أتى الصفا فعلاه حيث ينظر إلى البيت فرفع يديه فجعل يذكر الله ما شاء أن يذكره ويدعوه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1872 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1872
1872. اردو حاشیہ: صفا اور مروہ پر چڑھ کر بیت اللہ کی جانب رخ کرکے ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنا مسنون عمل ہے۔اور یہ ہاتھ اٹھانا بیت اللہ کو دیکھنے کی بناء پر نہیں بلکہ دعا کےلئے ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1872]
Sunan Abi Dawud Hadith 1872 in Urdu
عبد الله بن رباح الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي