سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب يوم الحج الأكبر
باب: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟
حدیث نمبر: 1945
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ، فَقَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ:" هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نحر کے روز (دسویں ذی الحجہ کو) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“، لوگوں نے جواب دیا: یوم النحر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی حج اکبر کا دن ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1945]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج میں قربانی والے دن جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ قربانی کا دن ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حج اکبر کا دن ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الحج 132 (1742 تعلیقًا)، سنن ابن ماجہ/المناسک 76 (3058)، (تحفة الأشراف: 8514) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی قرآن مجید میں جو «يوم الحج الأكبر» آیا ہے اس سے مراد یوم نحر ہی ہے، حج کو حج اکبر کہا جاتا ہے اور عمرہ کو حج اصغر، اور وہ جو عوام میں مشہور ہے کہ ” جمعہ کے دن یوم عرفہ پڑے تو حج اکبر ہے “ تو یہ بات بے دلیل اور بے اصل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1945
| يوم الحج الأكبر |
Sunan Abi Dawud Hadith 1945 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي