سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب الصلاة بمنى
باب: منیٰ میں نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1960
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ حَدَّثَاهُ وَحَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَتَمُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، زَادَ عَنْ حَفْصٍ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا، زَادَ مِنْ هَا هُنَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقُ، فَلَوَدِدْتُ أَنْ لِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ مُتَقَبَّلَتَيْنِ، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةَ بْنُ قُرَّةَ، عَنْ أَشْيَاخِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ صَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ ثُمَّ صَلَّيْتُ أَرْبَعًا، قَالَ: الْخِلَافُ شَرٌّ".
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دو ہی رکعتیں پڑھیں (اور حفص کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ) عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں، پھر وہ پوری پڑھنے لگے، (ایک روایت میں ابومعاویہ سے یہ ہے کہ) پھر تمہاری رائیں مختلف ہو گئیں، میری تو خواہش ہے کہ میرے لیے چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہی ہوں۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے معاویہ بن قرہ نے اپنے شیوخ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں، تو ان سے کہا گیا: آپ نے عثمان پر اعتراض کیا، پھر خود ہی چار پڑھنے لگے؟ تو انہوں نے کہا: اختلاف برا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1960]
جناب عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو دو رکعتیں (قصر) پڑھی ہیں۔“ (مسدد نے) حفص بن غیاث سے مزید یہ بھی کہا: ”اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی، کہ وہ ابتدائی دور خلافت میں (قصر کرتے رہے) پھر آخر میں وہ پوری پڑھنے لگے تھے۔“ (مسدد نے) یہاں سے ابومعاویہ سے یہ اضافہ کیا کہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا) ”پھر تمہاری راہیں مختلف ہو گئیں اور مجھے دو رکعتیں جو (اللہ کے ہاں) قبول ہو جائیں چار رکعتوں سے بہتر معلوم ہوتی ہیں۔“ اعمش نے کہا: مجھے معاویہ بن قرہ نے اپنے بزرگوں (اساتذہ) سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی چار رکعتیں پڑھیں تو ان سے کہا گیا کہ ”آپ عثمان رضی اللہ عنہ پر عیب لگاتے ہیں پھر بھی چار پڑھتے ہیں؟“ کہنے لگے ”اختلاف کرنا برا کام ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 2 (1084)، والحج 84 (1657)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (695)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 3 (1450)، (تحفة الأشراف: 9383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/378، 416، 422، 425، 464)، سنن الدارمی/المناسک 47 (1916) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون حديث معاوية بن قرة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1084) صحيح مسلم (695)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1960
| صليت مع النبي ركعتين ومع أبي بكر ركعتين ومع عمر ركعتين |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1960 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1960
1960. اردو حاشیہ: اس روایت میں حضرت عثمان کا یہ عمل منقول ہے کہ انہوں نے اپنی خلافت میں (ابتدائی چھ سال کے بعد) منی ٰ میں قصر کی بجائے پوری چار رکعت پڑھنی شروع کر دی تھیں۔ اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے محض جواز کی بنیاد پر پوری نماز پڑھی تھی، اسی لیے پہلے چھ سال تک وہ قصر ہی کرتے رہے تھے۔ اور اسی جواز ہی کی وجہ سے حضرت عبد اللہ بن مسعود نے بھی حضرت عثمان کی متابعت میں پوری نماز پڑھ لی، اور اس میں اختلاف کرنے کو پسند نہیں کیا۔ حالانکہ وہ خود بیان کر رہے ہیں کہ اس سے قبل وہ قصر کرتے رہے۔ اگر پوری نماز پڑھنے کا جواز نہ ہوتا تو یقیناً اس سے اختلاف کرتے اور اختلاف کو برا کام نہ کہتے کیونکہ جس چیز کا جواز ہی نہ ہو اس سے تواختلاف کرنا ضروری ہے اس اختلاف کو تو کسی صورت میں برا کام نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم مسافر کے لیے قصر اور اتمام دونوں باتوں کے جائز سمجھنے کے باوجود وہ ڈر تے تھے کہ حضرت عثمان کی متابعت میں انہوں نے جو چار رکعتیں پڑھی ہیں کہیں وہ عند اللہ نامقبول نہ ہوں اس لیے اللہ کی طرف سے اگر دورکعتیں بھی مقبول ہو جائیں تو بڑی بات ہے بے شک چاروں رکعتیں مقبول نہ ہوں۔ ان کی یہ بات خشیت الہی اور جذبہ اتباع سنت کی مظہر ہے جن سے صحابہ کرام متصف تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1960]
Sunan Abi Dawud Hadith 1960 in Urdu
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود