🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب في رمى الجمار
باب: رمی جمرات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1967
حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ رَاكِبًا، وَرَأَيْتُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ حَجَرًا فَرَمَى وَرَمَى النَّاسُ".
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1967]
سلیمان بن عمرو بن الاحوص کی والدہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں میں کنکریاں دیکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ماریں تو پھر اور لوگوں نے بھی ماریں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18306) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جمرات کی رمی سواری پر درست ہے، لیکن موجودہ حالات میں منتظمین حج کے احکام کی روشنی میں مناسک حج، قربانی، اور رمی جمرات وغیرہ کے کام انجام دینا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1966)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم جندب الأزدية، أم جندبصحابي
👤←👥سليمان بن عمرو الجشمي
Newسليمان بن عمرو الجشمي ← أم جندب الأزدية
مقبول
👤←👥يزيد بن أبي زياد الهاشمي، أبو عبد الله
Newيزيد بن أبي زياد الهاشمي ← سليمان بن عمرو الجشمي
ضعيف الحديث
👤←👥عبيدة بن حميد الليثي، أبو عبد الرحمن
Newعبيدة بن حميد الليثي ← يزيد بن أبي زياد الهاشمي
صدوق يخطئ
👤←👥وهب بن بيان الواسطي، أبو عبد الله
Newوهب بن بيان الواسطي ← عبيدة بن حميد الليثي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن خالد الكلبي، أبو ثور، أبو عبد الله
Newإبراهيم بن خالد الكلبي ← وهب بن بيان الواسطي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1967
عند جمرة العقبة راكبا ورأيت بين أصابعه حجرا فرمى ورمى الناس
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1967 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1967
1967. اردو حاشیہ: لفظ حجرکا ترجمہ کنکریاں دوسری روایات کی بنا پر صحیح ہے نیز اسی روایات میں «بين اصابعه» ‏‏‏‏ یعنی انگلیوں کے بیچ میں کا لفظ بھی موجود ہے۔ ورنہ معروف معنوں میں پتھر مارنا تو جائز نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1967]

Sunan Abi Dawud Hadith 1967 in Urdu