سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. باب زيارة القبور
باب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2043
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيُّ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ الْهُدَيْرِ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ، فَلَمَّا تَدَلَّيْنَا مِنْهَا وَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ؟ قَالَ:" قُبُورُ أَصْحَابِنَا" فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، قَالَ:" هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا".
ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا، میں نے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم (ایک ٹیلے کا نام ہے) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎“، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2043]
ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو کبھی حدیثِ رسول بیان کرتے نہیں سنا، مگر ایک حدیث۔ شاگرد نے کہا: ”میں نے پوچھا وہ کون سی؟“ (طلحہ نے) کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم شہداء کی قبروں کا قصد کیے ہوئے تھے حتیٰ کہ ہم حرہ واقم پر چڑھ گئے۔ جب اس سے نیچے اترے تو وہاں ایک جانب میں قبریں تھیں۔ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمارے اصحاب کی قبریں ہیں۔“ پھر جب ہم شہداء کی قبروں پر پہنچ گئے تو فرمایا: ”یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں۔“” [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4997)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جن کی موت اسلام پر ہوئی ہے اور وہ شہداء کا مقام نہیں پا سکے ہیں۔
۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کی نسبت ان کی طرف کی یہ ان کے لئے بڑے شرف کی بات ہے۔
۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کی نسبت ان کی طرف کی یہ ان کے لئے بڑے شرف کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2043
| قبور أصحابنا فلما جئنا قبور الشهداء قال هذه قبور إخواننا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2043 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2043
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موقع بموقع شہداء کی قبروں پر جایا کرتے تھے اور ان کے لئے دعایئں فرماتے تھے آپ نے شہداء کو اپنے بھائی ہونے کے لقب سے مشرف فرمایا اور دوسروں کو اپنے اصحاب کہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موقع بموقع شہداء کی قبروں پر جایا کرتے تھے اور ان کے لئے دعایئں فرماتے تھے آپ نے شہداء کو اپنے بھائی ہونے کے لقب سے مشرف فرمایا اور دوسروں کو اپنے اصحاب کہا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2043]
Sunan Abi Dawud Hadith 2043 in Urdu
ربيعة بن عبد الله بن الهدير ← طلحة بن عبيد الله القرشي