🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب فيمن حرم به
باب: بڑی عمر میں بھی رضاعت کی حرمت ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2061
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ كَانَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوُرِّثَ مِيرَاثَهُ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِي ذَلِكَ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ: فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5، فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، ثُمَّ الْعَامِرِيِّ، وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ، وَيَرَانِي فُضْلًا، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَكَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْضِعِيهِ"، فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخَوَاتِهَا وَبَنَاتِ إِخْوَتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ، ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا، وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي؟ لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ دُونَ النَّاسِ.
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس نے سالم کو (جو کہ ایک انصاری عورت کے غلام تھے) منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا، اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ان کا نکاح کرا دیا، زمانہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کو لوگ اپنی طرف منسوب کرتے تھے اور اسے ان کی میراث بھی دی جاتی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت: «ادعوهم لآبائهم» سے «فإخوانكم في الدين ومواليكم» ۱؎ تک نازل فرمائی تو وہ اپنے اصل باپ کی طرف منسوب ہونے لگے، اور جس کے باپ کا علم نہ ہوتا اسے مولیٰ اور دینی بھائی سمجھتے۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی ثم عامری جو کہ ابوحذیفہ کی بیوی تھیں آئیں اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے تھے، اور مجھے گھر کے کپڑوں میں کھلا دیکھتے تھے اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے بارے میں جو حکم نازل فرما دیا ہے وہ آپ کو معلوم ہی ہے لہٰذا اب اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: انہیں دودھ پلا دو، چنانچہ انہوں نے انہیں پانچ گھونٹ دودھ پلا دیا، اور وہ ان کے رضاعی بیٹے ہو گئے، اسی کے پیش نظر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ اس شخص کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دیں جسے دیکھنا یا اس کے سامنے آنا چاہتی ہوں گرچہ وہ بڑی عمر کا آدمی ہی کیوں نہ ہو پھر وہ ان کے پاس آتا جاتا، لیکن ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواج مطہرات نے اس قسم کی رضاعت کا انکار کیا جب تک کہ دودھ پلانا بچپن میں نہ ہو اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم ہمیں یہ معلوم نہیں شاید یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صرف سالم کے لیے رخصت رہی ہو نہ کہ دیگر لوگوں کے لیے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/النکاح 53 (3321)، سنن ابن ماجہ/النکاح 36 (1943)، (تحفة الأشراف: 16740، 18197، 18377)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 12 (2960)، والنکاح 15 (5088)، صحیح مسلم/الرضاع 7 (1453)، موطا امام مالک/الرضاع 2 (12)، مسند احمد (6/ 255، 271)، سنن الدارمی/النکاح 52 (2303) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سورة الأحزاب: (۵)
۲؎: جمہور کی رائے یہی ہے کہ یہ سالم کے ساتھ خاص ہے، کچھ علماء یہ کہتے ہیں کہ خصوصیت کی کوئی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے اس حکم کو برقرار مانا جائے اگر واقعی سالم جیسا معاملہ پیش آ جائے اور رضاعی ماں بننے کے لئے دودھ پلایا جائے تو رضاعت ثابت ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (3225) وأصله عند البخاري (5088) وللحديث طرق

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← أم سلمة زوج النبي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عنبسة بن خالد القرشي، أبو عثمان
Newعنبسة بن خالد القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر
Newأحمد بن صالح المصري ← عنبسة بن خالد القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2061
أرضعيه فأرضعته خمس رضعات فكان بمنزلة ولدها من الرضاعة
مسندالحميدي
280
أرضعيه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2061 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2061
فوائد ومسائل:
1: قرآن مجید کی تعلیمات اٹل ہیں اور واجب العمل بھی۔
ان میں چون وچرا کی کوئی گنجائش نہیں مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان وتوضیح کے ساتھ جو بسند صحیح ہم تک پہنچ جائے۔

2: جمہورعلماء کے نزدیک دو سال کی عمر کے بعد دودھ پینے پلانے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ حرمت ثابت کرنے والی رضاعت وہ ہے جو مدت رضاعت کے اندر ہو جو کہ دو سال ہے، کم از کم پانچ رضعات ہوں، (رضعت یہ ہے کہ بچہ چھاتی کو منہ میں لے اور دودھ چوسے تو جب تک وہ پستان کو منہ میں لے کر پیتا رہے گا یہ ایک رضعت کہلائے گی، خواہ یہ مدت طویل ہو یاقلیل) اور جو آنتوں کو پھاڑے یعنی اس کی خوراک صرف دودھ ہو جس سے بچہ پلے اور بڑھے مگر حضرت عائشہ رضی اللہ لیث بن سعد، عطاء اور فقہائے اہل ظاہر دوسال کے بعد بھی حرمت رضاعت کے قائل ہیں ان کی دلیل حضرت سالم کا واقعہ ہے لیکن دوسری امہات المومنین کا بیان ہے کہ حضرت سالم کے ساتھ خاص ہے، جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔
امام ابن تیمیہ اور شیخ شوکانی ؒ اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں کہ عمومی حالات میں تو نہیں مگر کہیں خاص اضطراری احوال میں اس پر عمل کی گنجائش ہے۔

3: اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ چہرہ چھپانا پردے کا لازمی حصہ ہے اگر چہ چھپانا ضروری نہ تھا تو اس قدر تردد کی ضرورت ہی کیا تھی۔

4: (رضعہ) کا معنی دیل باب میں دیکھیے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2061]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:280
فائدہ:
اس حدیث میں رضاعت کبیر کا بیان ہے، اب یہ منسوخ ہے، بعض نے اس کو سالم کے ساتھ خاص واقعہ قرار دیا ہے۔ (اکمال المعلم: 330/4۔ فتح الباری: 134/9) رضاعت ثابت ہونے کی عمر 2 سال تک ہے، اس کے بعد اگر کوئی دودھ پی لے تو اس کی رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف وہی رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے جو انتڑیوں کو کھول دے ( «‏‏‏‏وكـان قبـل الـفطام» اور دودھ چھڑانے کی مدت (یعنی دو سال کی عمر) سے پہلے ہو (سنن الترندی: 1152، یہ حدیث صیح ہے)۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا رضـاع بـعـد فصال ويتم بعد احتلام» (دودھ چھڑانے کی مدت کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی، اور احتلام کے بعد کسی کو یتیم نہیں سمجھا جائے گا)۔ (المعجم الصغير للطبراني: 158/2، یہ حدیث حسن ہے)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «لا رضاع الا فى الحولين» (کوئی رضاعت معتبر نہیں ہے سوائے اس رضاعت کے جو دوسال کے دوران ہو)۔ (سنن دار قطنی: 173/4)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 280]

Sunan Abi Dawud Hadith 2061 in Urdu