سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها
باب: کنواری لڑکی کا نکاح اس سے پوچھے بغیر اس کا باپ کر دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ النَّاسُ مُرْسَلًا مَعْرُوفٌ.
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2097]
عکرمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”(عکرمہ نے) ابن عباس رضی اللہ عنہ کا نام ذکر نہیں کیا، اور محدثین کے ہاں اس روایت کو اسی طرح مرسل روایت کرنا ہی معروف ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6001، 19103) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2096)
انظر الحديث السابق (2096)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله | ثقة | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← عكرمة مولى ابن عباس | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥محمد بن عبيد الغبري محمد بن عبيد الغبري ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2097 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2097
فوائد ومسائل:
باپ کو روا نہیں کہ جوان بیٹی کا عندیہ لیے بغیر اس کا نکاح کر دے، جبر کی صورت میں اسے حق حاصل ہے کہ قاضی کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر دے اور قاضی تحقیق احوال کے بعد شرعی تقاضوں کے مطابق فیصلہ دے۔
اگر باپ ولی کا فیصلہ بے محل ہو تو قاضی ایسے نکاح کو فسخ کر سکتا ہے۔
باپ کو روا نہیں کہ جوان بیٹی کا عندیہ لیے بغیر اس کا نکاح کر دے، جبر کی صورت میں اسے حق حاصل ہے کہ قاضی کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر دے اور قاضی تحقیق احوال کے بعد شرعی تقاضوں کے مطابق فیصلہ دے۔
اگر باپ ولی کا فیصلہ بے محل ہو تو قاضی ایسے نکاح کو فسخ کر سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2097]
Sunan Abi Dawud Hadith 2097 in Urdu
أيوب السختياني ← عكرمة مولى ابن عباس