🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. باب فِي الْمَذْىِ
باب: مذی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 213
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعْدٍ الْأَغْطَشِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ قُرْطٍ أَمِيرُ حِمْصَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ:" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: فَقَالَ: مَا فَوْقَ الْإِزَارِ، وَالتَّعَفُّفُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ يَعْنِي الْحَدِيثَ بِالْقَوِيِّ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مرد کے لیے اس کی حائضہ بیوی کی کیا چیز حلال ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لنگی (تہبند) کے اوپر کا حصہ جائز ہے، لیکن اس سے بھی بچنا افضل ہے۔‏‏‏‏“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 213]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایام حیض میں مرد کے لیے اپنی بیوی سے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہہ بند سے اوپر اوپر۔ (حلال ہے) تاہم اس سے بچنا افضل ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یہ حدیث قوی نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أخرجه: الطبراني فى الكبير: 20/ 100، ح: 194 من طريق آخر عن عبدالرحمٰن ابن عائذ به وهو لم يدرك معاذ بن جبل كما فى جامع التحصيل للعلائي، ص: 223، تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 11332) (ضعیف)» ‏‏‏‏
سعدالأغطش لین الحدیث اور بقیہ مدلس ہیں۔
وضاحت: عورت جب مخصوص ایام میں ہو تو (جماع کے بغیر) مباشرت جائز ہے جیسا کہ حدیث ۲۱۲ میں ذکر ہوا۔ مذکورہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ حدیث میں بیان بھی ہوا کہ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن عائذ لم يدرك معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه،قاله أبو حاتم الرازي (المراسيل ص 125 رقم: 448)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 21


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاذ بن جبل الأنصاري، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن عائذ الأزدي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله
Newعبد الرحمن بن عائذ الأزدي ← معاذ بن جبل الأنصاري
ثقة
👤←👥سعد بن عبد الله الأغطش
Newسعد بن عبد الله الأغطش ← عبد الرحمن بن عائذ الأزدي
مقبول
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← سعد بن عبد الله الأغطش
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥هشام بن عبد الملك اليزني، أبو تقي
Newهشام بن عبد الملك اليزني ← بقية بن الوليد الكلاعي
صدوق ربما وهم
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
213
ما فوق الإزار والتعفف عن ذلك أفضل
بلوغ المرام
127
ما فوق الإزار
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 213 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 213
فوائد و مسائل:
➊ ایام مخصوصہ میں جوان میاں بیوی کو ازحد احتیاط چاہئیے، عین ممکن ہےکہ ایسی حد تک پہنچ جائیں کہ واپس آنا مشکل ہو جائے۔ تاہم (جماع کے بغیر) مباشرت جائز ہے، کیونکہ مذکورہ حدیث ضعیف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 213]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 127
دوران حیض مباشرت
«. . . وعن معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه انه سال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: ما يحل للرجل من امراته وهي حائض؟ فقال: ‏‏‏‏ما فوق الإزار . . .»
”. . . سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ”جب عورت ایام ماہواری میں ہو تو عورت کی اپنے شوہر کے لیے کیا کیا چیز حلال ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پاجامہ یا تہبند میں جسم کا جتنا حصہ ہے اسے چھوڑ کر باقی حصہ اس کے لیے حلال ہے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 127]
� لغوی تشریح:
«مَا فَوْقَ الْإِزَار» اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں: ایک تو ازار سے مراد جماع اور باہم ہم بستری ہیں، یعنی شوہر کے لیے جماع کے علاوہ باقی سب کچھ کر گزرنا جائز ہے۔ اور دوسرے معنی ہیں: پاجامہ و تہبند کی جگہ، یعنی ناف سے گھٹنے تک کا حصہ چھوڑ کر باقی حصہ جسم سے مباشرت حلال ہے۔ اور دوسرے معنی کی رو سے یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث «اِصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاح» کے معارض ہے کیونکہ سیدنا انس کی حدیث سے صرف جماع کی ممانعت ہے جبکہ اس میں ناف سے گھٹنے تک کے سارے حصے سے استمتاع کی ممانعت ہے۔ مگر اولاً تو یہ روایت ضعیف ہے، ثانیاً اس سے پہلے معنی صرف جماع اور وطی مراد لیے جائیں گے تاکہ دونوں حدیثوں میں مطابقت ہو جائے۔ سنن نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ حالت حیض میں لیٹ جاتے جبکہ اس نے نصف ران تک ازار باندھا ہوتا۔ [سنن النسائي، الطهارة، باب مباشرة الحائض، حديث: 288] اس حدیث اور مذکورہ دونوں احادیث پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ دوران حیض مباشرت کے لیے ناف سے گھٹنوں تک ازاربند کا ہونا شرط نہیں ہے، گھٹنوں سے اوپر والے حصے سے بھی استمتاع جائز ہے۔ ازار سے مقصود جماع اور خون سے تحفظ ہے، خواہ وہ گھٹنوں تک ہو یا نصف ران تک یا اس سے بھی کم۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 127]

Sunan Abi Dawud Hadith 213 in Urdu