یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب في سنة طلاق العبد
باب: غلام کی طلاق میں سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2188
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ بِلَا إِخْبَارٍ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" بَقِيَتْ لَكَ وَاحِدَةٌ، قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ: مَنْ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْحَسَنِ هَذَا رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ، رَوَى الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ أَحَادِيثَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْحَسَنِ مَعْرُوفٌ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ.
عثمان بن عمر کہتے ہیں کہ ہمیں علی نے خبر دی ہے آگے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مذکور ہے لیکن عنعنہ کے صیغے کے ساتھ ہے نہ کہ «أخبرنا» کے صیغے کے ساتھ، اس میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیرے لیے ایک طلاق باقی رہ گئی ہے، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے پوچھا کہ یہ ابوالحسن کون ہیں؟ انہوں نے ایک بھاری چٹان اٹھا لی ہے؟ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحسن وہی ہیں جن سے زہری نے روایت کی ہے، زہری کہتے ہیں کہ وہ فقہاء میں سے تھے، زہری نے ابوالحسن سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحسن معروف ہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2188]
جناب علی (علی بن مبارک) نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا مگر «حَدَّثَنِي» کا صیغہ استعمال نہیں کیا (بلکہ «عَنْ» کہا)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”تیرے لیے ایک ہی (طلاق) بچ گئی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا، انہوں نے کہا: ”عبدالرزاق نے بیان کیا کہ ابن مبارک نے معمر سے پوچھا یہ ابوالحسن کون ہے؟ اس نے بہت بڑا بھاری پتھر اٹھایا ہے (یہ عدم اعتماد کا اظہار ہے)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یہ ابوالحسن وہی ہے جس سے زہری روایت کرتے ہیں۔ زہری کہتے ہیں کہ یہ فقہاء میں سے تھا اور زہری نے اس سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”ابوالحسن معروف ہے مگر اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6561، 18934) (ضعیف)» (عمر بن معتب کی وجہ سے یہ روایت بھی ضعیف ہے)
وضاحت: ۱؎: اس جملہ سے اس روایت میں جو کچھ ہے اس کا انکار مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2187)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 82
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2187)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 82
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن المبارك الهنائي | ثقة | |
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي عثمان بن عمر العبدي ← علي بن المبارك الهنائي | ثقة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عثمان بن عمر العبدي | ثقة ثبت |
Sunan Abi Dawud Hadith 2188 in Urdu
عثمان بن عمر العبدي ← علي بن المبارك الهنائي