سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب نَسْخِ الْمُرَاجَعَةِ بَعْدَ التَّطْلِيقَاتِ الثَّلاَثِ
باب: تین طلاق کے بعد رجعت کا اختیار باقی نہ رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ يَزِيدَ أَبُو رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ أُمَّ رُكَانَةَ وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ مُزَيْنَةَ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا يُغْنِي عَنِّي إِلَّا كَمَا تُغْنِي هَذِهِ الشَّعْرَةُ لِشَعْرَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ رَأْسِهَا فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِيَّةٌ فَدَعَا بِرُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ، ثُمَّ قَالَ لَجُلَسَائِهِ:" أَتَرَوْنَ فُلَانًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ عَبْدِ يَزِيدَ، وَفُلَانًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ يَزِيدَ:" طَلِّقْهَا"، فَفَعَلَ، ثُمَّ قَالَ:" رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ"، فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ، رَاجِعْهَا"، وَتَلَا: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ وَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ، لِأَنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ وَأَهْلَهُ أَعْلَمُ بِهِ إِنَّ رُكَانَةَ، إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ: ”کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی؟“، لوگوں نے کہا: ہاں (ملتی ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا: ”اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کر لو“، عبد یزید نے کہا: اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» (سورۃ الطلاق: ۱) ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں طلاق دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت (حدیث نمبر: ۲۲۰۶) کیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی، پھر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رجوع کرا دیا، زیادہ صحیح ہے کیونکہ رکانہ کے لڑکے اور ان کے گھر والے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ہی شمار کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2196]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد یزید جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا والد تھا، اس نے ام رکانہ کو طلاق دے دی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا۔ پھر یہ (مزنی عورت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ”یہ میرے کام کا نہیں، جیسے یہ بال“ اور اس نے اپنے سر سے بال پکڑ کر اشارہ کیا (یعنی نامرد ہے) ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کرا دیں۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا اور پھر رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوایا، اور حاضرین سے کہا: ”کیا دیکھتے ہو کہ فلاں بچہ اس سے کس قدر مشابہ ہے؟“ یعنی عبد یزید کے ساتھ، ”اور فلاں اس سے کتنا مشابہ ہے؟“ سب نے کہا کہ جی ہاں (یعنی جب پہلے اس کی اولاد موجود ہے تو اس عورت کا دعویٰ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: ”اس کو طلاق دے دو۔“ چنانچہ اس نے (طلاق) دے دی۔ اور فرمایا: ”اپنی (پہلی) بیوی سے جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں ہے، رجوع کر لو۔“ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے تین طلاقیں دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے، اس سے رجوع کر لو۔“ اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو عدت کے وقت طلاق دیا کرو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی روایت ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ «بَتَّةً» دی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیوی کو اس پر لوٹا دیا تھا، یہ روایت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ یہ اس آدمی کی اولاد ہیں اور گھر والے اس کے متعلق زیادہ باخبر ہو سکتے ہیں، یعنی رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ «بَتَّةً» دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک بنا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/265) (عندہ ’’داود بن حصین‘‘ مکان ’’بعض بنی أبی رافع‘‘ (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث حسن ہے، اور مؤلف نے جس حدیث (نمبر: ۲۲۰۶) کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ضعیف ہے، نیز اولاد رکانہ واقعہ کے بیان میں خود مضطرب ہیں، یاد رہے کہ عہد نبوی میں ”تین طلاق“ اور ”طلاقہ بتہ “ ہم معنی الفاظ تھے، عہد نبوی و عہد صحابہ کے بعد لوگوں نے ”طلاق بتہ“ کا یہ معنی بنا دیا کہ جس میں ایک دو، تین طلاق دہندہ کی نیت کے مطابق طے کیا جائیگا (تفصیل کے لے دیکھئے تنویر الآفاق)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بعض بني أبي رافع: مجهول
وأشار ابن حجر في التقريب (ج 4 ص 391) كأنه الفضل بن عبيد اللّٰه بن أبي رافع والفضل ھذا : مقبول (تق : 5408) يعني مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
إسناده ضعيف
بعض بني أبي رافع: مجهول
وأشار ابن حجر في التقريب (ج 4 ص 391) كأنه الفضل بن عبيد اللّٰه بن أبي رافع والفضل ھذا : مقبول (تق : 5408) يعني مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2825
| ردها عليه |
سنن أبي داود |
2196
| راجع امرأتك أم ركانة وإخوته فقال إني طلقتها ثلاثا يا رسول الله قال قد علمت راجعها وتلا يأيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن |
بلوغ المرام |
919
| راجع امرأتك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2196 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2196
فوائد ومسائل:
1۔
یہ حدیث ضعیف ہے۔
تاہم بعض محقیقین کے نزدیک یہ حسن درجہ کی ہے۔
(اس کی بحث کے لیے دیکھے: ارواء الغلیل 1447 اوما قبلہ) اور محولہ احادیث آگے آ رہی ہیں۔
2208۔
2206)
2۔
طلاق بتہ: یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع کا حق کٹ جائے۔
بت يبت بتاً یعنی کاٹ دینا؛ ٹکرے ٹکرے کر دینا۔
3۔
عہد رسالت میں طلاق بتہ کا لفظ ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں دینے کے مفہوم میں استعمال ہوتا تھا۔
اعتبار سے بیک وقت تین طلاقیں یا طلاق بتہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (طلاق بتہ) کو ایک بنا دیا۔
ورنہ بعد میں طلاق بتہ کا جو مفہوم رائج ہوا اس کی رو سے تو اسے کسی صورت بہی ایک طلاق نہیں بنایا جا سکتا تھا۔
1۔
یہ حدیث ضعیف ہے۔
تاہم بعض محقیقین کے نزدیک یہ حسن درجہ کی ہے۔
(اس کی بحث کے لیے دیکھے: ارواء الغلیل 1447 اوما قبلہ) اور محولہ احادیث آگے آ رہی ہیں۔
2208۔
2206)
2۔
طلاق بتہ: یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع کا حق کٹ جائے۔
بت يبت بتاً یعنی کاٹ دینا؛ ٹکرے ٹکرے کر دینا۔
3۔
عہد رسالت میں طلاق بتہ کا لفظ ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں دینے کے مفہوم میں استعمال ہوتا تھا۔
اعتبار سے بیک وقت تین طلاقیں یا طلاق بتہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (طلاق بتہ) کو ایک بنا دیا۔
ورنہ بعد میں طلاق بتہ کا جو مفہوم رائج ہوا اس کی رو سے تو اسے کسی صورت بہی ایک طلاق نہیں بنایا جا سکتا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2196]
ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ، فوائد و مسائل، تحت الحديث الجامع الكامل : 6570
والثانی: اس پر صرف ایک ہی طلاق لازم ہوگی۔
یہ قول امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کے بعض اصحاب کا ہے۔ یہ سلف و خلف کی ایک جماعت سے بھی منقول ہے، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا زبیر بن عوام اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں ذکر کیا ہے۔
اس مسئلے میں درست بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ملک کے دارالافتاء سے رجوع کرے، تاکہ اپنے معاملے میں تضاد اور تذبذب کا شکار نہ ہو۔ اللہ ہی سیدھی راہ کی ہدایت دینے والا ہے۔
حسن: اسے امام احمد (2387)، امام ابو یعلیٰ (25) اور امام بیہقی (7/339) رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے۔ ان سب نے یہ روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے لی ہے، جو کہتے ہیں: مجھ سے داود بن حصین نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث ذکر کی۔
محمد بن اسحاق کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
رہے داود بن حصین، تو وہ فی نفسہ ثقہ اور جماعت کے رجال میں سے ہیں۔ امام ابن معین رحمہ اللہ نے انہیں مطلقاً ثقہ کہا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان میں کوئی حرج نہیں۔“ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب ان سے کوئی ثقہ روایت کرے تو یہ صالح الحدیث ہیں۔“ لیکن امام ابن المدینی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انہوں نے عکرمہ سے جو کچھ روایت کیا ہے وہ منکر ہے۔“ اور امام ابو داود رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان کی اپنے شیوخ سے روایات درست ہیں، مگر عکرمہ سے ان کی روایات منکر ہیں۔“
لیکن جب اس کے ساتھ ابن جریج کی روایت ملائی جائے تو حدیث قوی ہو جاتی ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی نے خبر دی، انہوں نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔
یہ وہ روایت ہے جسے امام عبدالرزاق (11334) نے، اور ان سے امام ابو داود (2196) رحمہما اللہ نے، مذکورہ طریق سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: رکانہ اور ان کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے ام رکانہ کو طلاق دے دی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا۔ وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اپنے سر کا ایک بال پکڑا اور کہنے لگی: ”یہ میرے کسی کام کا نہیں، بس اتنا ہی جتنا یہ بال کام آتا ہے، لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجیے۔“ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غیرت آ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ اور ان کے بھائیوں کو بلایا، پھر اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم دیکھتے ہو کہ فلاں، عبد یزید سے فلاں فلاں بات میں مشابہ ہے؟ اور فلاں، اس سے فلاں فلاں بات میں مشابہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکانہ اور اس کے بھائیوں کی والدہ، اپنی بیوی سے رجوع کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں تو اسے تین طلاقیں دے چکا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ (اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو)۔
اس سند میں سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے یہ راوی مجہول ہے۔ ان کی اولاد تابعین میں سے ہے، اور پہلی سند میں ان کی متابعت موجود ہے۔
دونوں طرق کے جمع ہونے سے حدیث کو قوت ملتی ہے، کیونکہ دونوں اس مضمون پر متفق ہیں کہ انہوں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک قرار دیا اور رجوع کا حکم فرمایا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کی روایت کو راجح قرار دیا اور فرمایا: ”یہ حدیث اس مسئلے میں نص ہے۔ اس میں وہ تاویل قبول نہیں کی جا سکتی جو آگے ذکر ہونے والی دیگر روایات میں کی جاتی ہے ....“ (فتح الباری: 9/362)
پھر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہی مذہب سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم سے نقل کیا۔ یہ قول ابن مغیث نے اپنی ”کتاب الوثائق“ میں نقل کیا ہے اور اسے محمد بن وضاح کی طرف منسوب کیا ہے۔ غنوی نے اسے قرطبہ کے مشائخ کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے، جیسے محمد بن بقی بن مخلد اور محمد بن عبدالسلام خشنی وغیرہ۔ امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردوں سے نقل کیا ہے، جیسے عطاء، طاوس اور عمرو بن دینار رحمہم اللہ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابن التین پر تعجب ہے کہ انہوں نے یقین سے کہہ دیا کہ تین طلاقوں کے لازم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف اس کے حرام ہونے میں ہے، حالانکہ اختلاف ثابت ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ ابن اسحاق کی مذکورہ حدیث کو وہ روایت بھی تقویت دیتی ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے عبدالرزاق کے طریق سے روایت کیا ہے: عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے عبداللہ بن طاوس سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے..... پھر وہ حدیث ذکر کی۔“ انتہیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتووں میں اختلاف:
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا۔ ایک شخص آیا اور بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ آپ اس کی بیوی اسے لوٹا دیں گے۔ پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی جا کر حماقت کر بیٹھتا ہے، پھر آ کر کہتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾ (اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے) [الطلاق: 2] ۔ تم اللہ سے نہیں ڈرے، اس لیے میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا۔ تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ (اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو) [الطلاق: 1] ۔“
اسے امام ابو داود رحمہ اللہ (2197) نے حمید بن مسعدہ سے روایت کیا ہے: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں ایوب نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن کثیر سے، اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی، پھر یہ واقعہ ذکر کیا۔ اس کی سند صحیح ہے۔
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسی طرح سعید بن جبیر، عطاء، مالک بن حارث اور عمرو بن دینار نے بھی اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ ان سب نے تین طلاقوں کے بارے میں اپنی روایت میں بیان کیا کہ آپ نے انہیں نافذ قرار دیا اور فرمایا: تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔“
حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے: ”جب کوئی ایک ہی بار میں کہے: تجھے تین طلاق، تو وہ ایک ہی ہوگی۔“
لیکن اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، اور انہوں نے عکرمہ سے، یہی بات عکرمہ کے اپنے قول کے طور پر روایت کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو قول منقول ہیں:
پہلا قول: جسے ان کے جمہور شاگردوں نے روایت کیا ہے، کہ آپ نے تین کے لفظ سے دی گئی تین طلاقوں کو نافذ قرار دیا۔
دوسرا قول: تین طلاقوں کا واقع نہ ہونا، جیسا کہ عکرمہ کی ان سے روایت میں ہے۔ دونوں قولوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ آپ پہلے تین طلاقوں کے نفاذ کے قائل تھے، پھر آپ پر واضح ہوا کہ یہ ایک ہی ہے تو آپ نے اسی کی طرف رجوع کر لیا، جیسا کہ آپ نے بیعِ صرف کے مسئلے میں رجوع کیا تھا۔
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ تین طلاقوں سے عورت اپنے شوہر سے جدا ہو جاتی ہے، خواہ اس سے دخول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔ یہ ان کی بیعِ صرف والی دوسری روایت کی مانند ہے، جس میں انہوں نے ایک بات کہی اور پھر اس سے رجوع کر لیا۔“ یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ انتہیٰ۔
یہی آخری قول حدیثِ رکانہ کی تائید کرتا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اسی کی نصرت کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”فتح الباری“ میں اس کے دیگر جوابات بھی دیے ہیں، وہاں رجوع کیجیے۔
رہی وہ روایت جو نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے مروی ہے، تو وہ ضعیف ہے۔ اس میں ہے کہ سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ کو ”البتہ“ طلاق دی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور عرض کیا: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں لوٹا دی۔ پھر انہوں نے دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور تیسری سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں دی۔
اسے امام ابو داود رحمہ اللہ (226) نے ابن السرح اور ابراہیم بن خالد کلبی ابو ثور سمیت کئی راویوں سے روایت کیا ہے۔ وہ سب کہتے ہیں: ہم سے امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے چچا محمد بن علی بن شافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن علی بن سائب سے، اور انہوں نے نافع بن عجیر سے یہ روایت ذکر کی۔
امام ابو داود رحمہ اللہ ابن جریج کی حدیث کے بعد فرماتے ہیں: ”نافع بن عجیر کی حدیث، اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جو وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں لوٹا دی، زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اسی شخص کی اولاد ہیں اور گھر والے اس کے معاملے کو زیادہ جانتے ہیں کہ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو صرف البتہ طلاق دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک قرار دیا۔“ انتہیٰ۔
میں کہتا ہوں: لیکن اس میں نافع بن عجیر ہیں جن کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ انہیں شرفِ صحابیت حاصل تھا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے انہیں ”الثقات“ میں ذکر کیا ہے، اور ان کے سوا کسی نے انہیں ثقہ نہیں کہا، لہٰذا جمہور اہلِ علم کے نزدیک یہ ”مجہول“ ہیں۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مجہول ہے، اس کا حال بالکل معلوم نہیں۔“
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لیکن علل الحدیث اور فقہ الحدیث کو جاننے والے بڑے ائمہ، جیسے امام احمد، امام بخاری، امام ابو عبید اور ابو محمد ابن حزم رحمہم اللہ وغیرہ نے البتہ والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کے راوی مجہول لوگ ہیں جن کی عدالت اور ضبط معلوم نہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ نے تین طلاقوں والی حدیث کو ثابت مانا اور بتایا کہ یہی درست ہے۔ چنانچہ ان کا قول ہے: رکانہ کی یہ حدیث کہ انہوں نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دی، ثابت نہیں۔ اور یہ بھی فرمایا: رکانہ کی البتہ والی حدیث کچھ نہیں، کیونکہ ابن اسحاق، داود بن حصین سے، وہ عکرمہ سے، اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔“
”اہلِ مدینہ تین طلاقیں دینے والے کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے البتہ طلاق دی۔ امام احمد رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے صرف اس لیے عدول کیا کہ وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی موافقت میں تین طلاقوں کو جائز سمجھتے تھے۔“ انتہیٰ۔
مجموع الفتاویٰ (15/33)
اسی طرح وہ روایت بھی صحیح نہیں جو عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ اپنے والد سے، اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ارادہ کیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ایک کا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ اسی پر ہے جس کا تم نے ارادہ کیا۔“
اسے امام ابو داود (228)، امام ترمذی (1177) اور امام ابن ماجہ (251) رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے، اور امام ابن حبان (4274) اور امام حاکم (2/199) رحمہما اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ان سب نے اسے جریر بن حازم کی سند سے روایت کیا ہے، انہوں نے زبیر بن سعید سے، اور انہوں نے عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ سے یہ روایت ذکر کی۔
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ روایت ابن جریج کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، کیونکہ یہ ان کے گھر والے ہیں اور ان کے معاملے کو زیادہ جانتے ہیں۔ ابن جریج نے تو اپنی حدیث ابو رافع کی اولاد میں سے کسی سے روایت کی ہے، جو عکرمہ سے اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔“ انتہیٰ۔
لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ میں نے امام محمد (بن اسماعیل بخاری) رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس میں اضطراب ہے۔ عکرمہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔“ انتہیٰ۔
میں کہتا ہوں: اس کی سند میں زبیر بن سعید ضعیف ہے۔ آجری نے امام ابو داود رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے: ”اس کی حدیث میں نکارت ہے۔ مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ میں نے امام ابن معین رحمہ اللہ کو کہتے سنا: وہ ضعیف ہے۔“
ایک بار انہوں نے کہا: ”مجھے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا۔“ لیکن دوری کی امام ابن معین رحمہ اللہ سے روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ثقہ ہے۔“ ایک بار فرمایا: ”کچھ بھی نہیں۔“ اور امام ابو زرعہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”شیخ ہے۔“
اس میں عبداللہ بن علی بن یزید بھی ہیں، جنہیں امام ابن حبان رحمہ اللہ کے سوا کسی نے ثقہ نہیں کہا، اور ان سے زبیر بن سعید کے سوا کسی نے روایت نہیں کی۔ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی۔“ یہ مضطرب الحدیث ہیں اور انہوں نے طلاق کے بارے میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ ان کے والد علی بن یزید کو بھی امام ابن حبان رحمہ اللہ کے سوا کسی نے ثقہ نہیں کہا، اور امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی حدیث صحیح نہیں۔“
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے میں بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میرے شوہر نے یمن کی طرف روانہ ہوتے وقت مجھے تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ قرار دیا۔“
اسے امام ابن ماجہ رحمہ اللہ (224) نے محمد بن رافع سے روایت کیا ہے: ہمیں لیث بن سعد نے خبر دی، انہوں نے اسحاق بن ابی فروہ سے، انہوں نے ابو الزناد سے، اور انہوں نے عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت کی۔ امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ”مجھے اپنی طلاق کا واقعہ سنائیے۔“ تو انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا۔
اس کی سند سخت ضعیف ہے، کیونکہ اسحاق بن ابی فروہ، یعنی اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ، متروک ہے۔ شاید امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کو اس کے الفاظ ”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ قرار دیا“ سے یہ گمان ہوا کہ یہ طلاقیں ایک ہی مجلس میں تھیں، اس لیے انہوں نے اس پر یہ باب قائم کیا: ”باب: جس نے ایک ہی مجلس میں طلاقیں دیں۔“
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے میں صحیح یہ ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں الگ الگ طلاقیں دی تھیں، جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کی روایات میں آیا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس کو وہ طلاق بھیجی جو ان کی طلاقوں میں سے باقی رہ گئی تھی (صحیح مسلم: 148/41)۔ لہٰذا ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ قرار دیا“ کے الفاظ اسحاق بن ابی فروہ کا اپنا تصرف ہیں، ورنہ احادیث میں صرف یہ ہے: ”اس کے لیے نہ رہائش ہے اور نہ نفقہ۔“
اہم فوائد:
طلاق کی تین قسمیں ہیں:
1- طلاقِ رجعی: وہ طلاق جس میں شوہر عورت کی مرضی کے بغیر رجوع کر سکتا ہے۔ اگر عدت کے دوران دونوں میں سے کوئی فوت ہو جائے تو دوسرا اس کا وارث ہوتا ہے۔
2- طلاقِ بائن: وہ طلاق جس کے بعد شوہر کی حیثیت محض نکاح کا پیغام دینے والے کی رہ جاتی ہے، اور عورت اس کے لیے صرف نئے نکاح سے حلال ہوتی ہے۔
3- طلاقِ مغلظہ: جس کے بعد عورت اس کے لیے حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔
ایک ہی طہر میں ایک کلمے یا کئی کلمات سے طلاق:
مثلاً یوں کہے: ”تجھے تین طلاق۔“
یا: ”تجھے طلاق، طلاق، طلاق۔“
یا: ”تجھے طلاق، پھر طلاق، پھر طلاق۔“
یا: ”تجھے تین طلاق، یا سو، یا ہزار۔“
اس بارے میں علماء کے دو قول ہیں:
پہلا قول یہ ہے کہ اس سے تین طلاقیں لازم ہو جاتی ہیں۔
یہ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ کا قول ہے، اور ایک روایت کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ کا بھی۔ ان کے اکثر اصحاب نے اسی کو اختیار کیا ہے، اور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے بہت سے سلف کا بھی یہی قول ہے۔
یہ قول امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کے بعض اصحاب کا ہے۔ یہ سلف و خلف کی ایک جماعت سے بھی منقول ہے، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا زبیر بن عوام اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں ذکر کیا ہے۔
اس مسئلے میں درست بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ملک کے دارالافتاء سے رجوع کرے، تاکہ اپنے معاملے میں تضاد اور تذبذب کا شکار نہ ہو۔ اللہ ہی سیدھی راہ کی ہدایت دینے والا ہے۔
حسن: اسے امام احمد (2387)، امام ابو یعلیٰ (25) اور امام بیہقی (7/339) رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے۔ ان سب نے یہ روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے لی ہے، جو کہتے ہیں: مجھ سے داود بن حصین نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث ذکر کی۔
محمد بن اسحاق کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
رہے داود بن حصین، تو وہ فی نفسہ ثقہ اور جماعت کے رجال میں سے ہیں۔ امام ابن معین رحمہ اللہ نے انہیں مطلقاً ثقہ کہا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان میں کوئی حرج نہیں۔“ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب ان سے کوئی ثقہ روایت کرے تو یہ صالح الحدیث ہیں۔“ لیکن امام ابن المدینی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انہوں نے عکرمہ سے جو کچھ روایت کیا ہے وہ منکر ہے۔“ اور امام ابو داود رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان کی اپنے شیوخ سے روایات درست ہیں، مگر عکرمہ سے ان کی روایات منکر ہیں۔“
لیکن جب اس کے ساتھ ابن جریج کی روایت ملائی جائے تو حدیث قوی ہو جاتی ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی نے خبر دی، انہوں نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔
یہ وہ روایت ہے جسے امام عبدالرزاق (11334) نے، اور ان سے امام ابو داود (2196) رحمہما اللہ نے، مذکورہ طریق سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: رکانہ اور ان کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے ام رکانہ کو طلاق دے دی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا۔ وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اپنے سر کا ایک بال پکڑا اور کہنے لگی: ”یہ میرے کسی کام کا نہیں، بس اتنا ہی جتنا یہ بال کام آتا ہے، لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجیے۔“ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غیرت آ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ اور ان کے بھائیوں کو بلایا، پھر اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم دیکھتے ہو کہ فلاں، عبد یزید سے فلاں فلاں بات میں مشابہ ہے؟ اور فلاں، اس سے فلاں فلاں بات میں مشابہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکانہ اور اس کے بھائیوں کی والدہ، اپنی بیوی سے رجوع کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں تو اسے تین طلاقیں دے چکا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ (اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو)۔
اس سند میں سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے یہ راوی مجہول ہے۔ ان کی اولاد تابعین میں سے ہے، اور پہلی سند میں ان کی متابعت موجود ہے۔
دونوں طرق کے جمع ہونے سے حدیث کو قوت ملتی ہے، کیونکہ دونوں اس مضمون پر متفق ہیں کہ انہوں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک قرار دیا اور رجوع کا حکم فرمایا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کی روایت کو راجح قرار دیا اور فرمایا: ”یہ حدیث اس مسئلے میں نص ہے۔ اس میں وہ تاویل قبول نہیں کی جا سکتی جو آگے ذکر ہونے والی دیگر روایات میں کی جاتی ہے ....“ (فتح الباری: 9/362)
پھر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہی مذہب سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم سے نقل کیا۔ یہ قول ابن مغیث نے اپنی ”کتاب الوثائق“ میں نقل کیا ہے اور اسے محمد بن وضاح کی طرف منسوب کیا ہے۔ غنوی نے اسے قرطبہ کے مشائخ کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے، جیسے محمد بن بقی بن مخلد اور محمد بن عبدالسلام خشنی وغیرہ۔ امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردوں سے نقل کیا ہے، جیسے عطاء، طاوس اور عمرو بن دینار رحمہم اللہ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابن التین پر تعجب ہے کہ انہوں نے یقین سے کہہ دیا کہ تین طلاقوں کے لازم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف اس کے حرام ہونے میں ہے، حالانکہ اختلاف ثابت ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ ابن اسحاق کی مذکورہ حدیث کو وہ روایت بھی تقویت دیتی ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے عبدالرزاق کے طریق سے روایت کیا ہے: عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے عبداللہ بن طاوس سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے..... پھر وہ حدیث ذکر کی۔“ انتہیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتووں میں اختلاف:
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا۔ ایک شخص آیا اور بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ آپ اس کی بیوی اسے لوٹا دیں گے۔ پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی جا کر حماقت کر بیٹھتا ہے، پھر آ کر کہتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾ (اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے) [الطلاق: 2] ۔ تم اللہ سے نہیں ڈرے، اس لیے میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا۔ تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ (اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو) [الطلاق: 1] ۔“
اسے امام ابو داود رحمہ اللہ (2197) نے حمید بن مسعدہ سے روایت کیا ہے: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں ایوب نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن کثیر سے، اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی، پھر یہ واقعہ ذکر کیا۔ اس کی سند صحیح ہے۔
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسی طرح سعید بن جبیر، عطاء، مالک بن حارث اور عمرو بن دینار نے بھی اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ ان سب نے تین طلاقوں کے بارے میں اپنی روایت میں بیان کیا کہ آپ نے انہیں نافذ قرار دیا اور فرمایا: تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔“
حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے: ”جب کوئی ایک ہی بار میں کہے: تجھے تین طلاق، تو وہ ایک ہی ہوگی۔“
لیکن اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، اور انہوں نے عکرمہ سے، یہی بات عکرمہ کے اپنے قول کے طور پر روایت کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو قول منقول ہیں:
پہلا قول: جسے ان کے جمہور شاگردوں نے روایت کیا ہے، کہ آپ نے تین کے لفظ سے دی گئی تین طلاقوں کو نافذ قرار دیا۔
دوسرا قول: تین طلاقوں کا واقع نہ ہونا، جیسا کہ عکرمہ کی ان سے روایت میں ہے۔ دونوں قولوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ آپ پہلے تین طلاقوں کے نفاذ کے قائل تھے، پھر آپ پر واضح ہوا کہ یہ ایک ہی ہے تو آپ نے اسی کی طرف رجوع کر لیا، جیسا کہ آپ نے بیعِ صرف کے مسئلے میں رجوع کیا تھا۔
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ تین طلاقوں سے عورت اپنے شوہر سے جدا ہو جاتی ہے، خواہ اس سے دخول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔ یہ ان کی بیعِ صرف والی دوسری روایت کی مانند ہے، جس میں انہوں نے ایک بات کہی اور پھر اس سے رجوع کر لیا۔“ یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ انتہیٰ۔
یہی آخری قول حدیثِ رکانہ کی تائید کرتا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اسی کی نصرت کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”فتح الباری“ میں اس کے دیگر جوابات بھی دیے ہیں، وہاں رجوع کیجیے۔
رہی وہ روایت جو نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے مروی ہے، تو وہ ضعیف ہے۔ اس میں ہے کہ سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ کو ”البتہ“ طلاق دی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور عرض کیا: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں لوٹا دی۔ پھر انہوں نے دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور تیسری سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں دی۔
اسے امام ابو داود رحمہ اللہ (226) نے ابن السرح اور ابراہیم بن خالد کلبی ابو ثور سمیت کئی راویوں سے روایت کیا ہے۔ وہ سب کہتے ہیں: ہم سے امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے چچا محمد بن علی بن شافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن علی بن سائب سے، اور انہوں نے نافع بن عجیر سے یہ روایت ذکر کی۔
امام ابو داود رحمہ اللہ ابن جریج کی حدیث کے بعد فرماتے ہیں: ”نافع بن عجیر کی حدیث، اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جو وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں لوٹا دی، زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اسی شخص کی اولاد ہیں اور گھر والے اس کے معاملے کو زیادہ جانتے ہیں کہ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو صرف البتہ طلاق دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک قرار دیا۔“ انتہیٰ۔
میں کہتا ہوں: لیکن اس میں نافع بن عجیر ہیں جن کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ انہیں شرفِ صحابیت حاصل تھا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے انہیں ”الثقات“ میں ذکر کیا ہے، اور ان کے سوا کسی نے انہیں ثقہ نہیں کہا، لہٰذا جمہور اہلِ علم کے نزدیک یہ ”مجہول“ ہیں۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مجہول ہے، اس کا حال بالکل معلوم نہیں۔“
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لیکن علل الحدیث اور فقہ الحدیث کو جاننے والے بڑے ائمہ، جیسے امام احمد، امام بخاری، امام ابو عبید اور ابو محمد ابن حزم رحمہم اللہ وغیرہ نے البتہ والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کے راوی مجہول لوگ ہیں جن کی عدالت اور ضبط معلوم نہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ نے تین طلاقوں والی حدیث کو ثابت مانا اور بتایا کہ یہی درست ہے۔ چنانچہ ان کا قول ہے: رکانہ کی یہ حدیث کہ انہوں نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دی، ثابت نہیں۔ اور یہ بھی فرمایا: رکانہ کی البتہ والی حدیث کچھ نہیں، کیونکہ ابن اسحاق، داود بن حصین سے، وہ عکرمہ سے، اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔“
”اہلِ مدینہ تین طلاقیں دینے والے کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے البتہ طلاق دی۔ امام احمد رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے صرف اس لیے عدول کیا کہ وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی موافقت میں تین طلاقوں کو جائز سمجھتے تھے۔“ انتہیٰ۔
مجموع الفتاویٰ (15/33)
اسی طرح وہ روایت بھی صحیح نہیں جو عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ اپنے والد سے، اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ارادہ کیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ایک کا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ اسی پر ہے جس کا تم نے ارادہ کیا۔“
اسے امام ابو داود (228)، امام ترمذی (1177) اور امام ابن ماجہ (251) رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے، اور امام ابن حبان (4274) اور امام حاکم (2/199) رحمہما اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ان سب نے اسے جریر بن حازم کی سند سے روایت کیا ہے، انہوں نے زبیر بن سعید سے، اور انہوں نے عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ سے یہ روایت ذکر کی۔
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ روایت ابن جریج کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، کیونکہ یہ ان کے گھر والے ہیں اور ان کے معاملے کو زیادہ جانتے ہیں۔ ابن جریج نے تو اپنی حدیث ابو رافع کی اولاد میں سے کسی سے روایت کی ہے، جو عکرمہ سے اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔“ انتہیٰ۔
لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ میں نے امام محمد (بن اسماعیل بخاری) رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس میں اضطراب ہے۔ عکرمہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔“ انتہیٰ۔
میں کہتا ہوں: اس کی سند میں زبیر بن سعید ضعیف ہے۔ آجری نے امام ابو داود رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے: ”اس کی حدیث میں نکارت ہے۔ مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ میں نے امام ابن معین رحمہ اللہ کو کہتے سنا: وہ ضعیف ہے۔“
ایک بار انہوں نے کہا: ”مجھے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا۔“ لیکن دوری کی امام ابن معین رحمہ اللہ سے روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ثقہ ہے۔“ ایک بار فرمایا: ”کچھ بھی نہیں۔“ اور امام ابو زرعہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”شیخ ہے۔“
اس میں عبداللہ بن علی بن یزید بھی ہیں، جنہیں امام ابن حبان رحمہ اللہ کے سوا کسی نے ثقہ نہیں کہا، اور ان سے زبیر بن سعید کے سوا کسی نے روایت نہیں کی۔ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی۔“ یہ مضطرب الحدیث ہیں اور انہوں نے طلاق کے بارے میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ ان کے والد علی بن یزید کو بھی امام ابن حبان رحمہ اللہ کے سوا کسی نے ثقہ نہیں کہا، اور امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی حدیث صحیح نہیں۔“
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے میں بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میرے شوہر نے یمن کی طرف روانہ ہوتے وقت مجھے تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ قرار دیا۔“
اسے امام ابن ماجہ رحمہ اللہ (224) نے محمد بن رافع سے روایت کیا ہے: ہمیں لیث بن سعد نے خبر دی، انہوں نے اسحاق بن ابی فروہ سے، انہوں نے ابو الزناد سے، اور انہوں نے عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت کی۔ امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ”مجھے اپنی طلاق کا واقعہ سنائیے۔“ تو انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا۔
اس کی سند سخت ضعیف ہے، کیونکہ اسحاق بن ابی فروہ، یعنی اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ، متروک ہے۔ شاید امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کو اس کے الفاظ ”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ قرار دیا“ سے یہ گمان ہوا کہ یہ طلاقیں ایک ہی مجلس میں تھیں، اس لیے انہوں نے اس پر یہ باب قائم کیا: ”باب: جس نے ایک ہی مجلس میں طلاقیں دیں۔“
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے میں صحیح یہ ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں الگ الگ طلاقیں دی تھیں، جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کی روایات میں آیا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس کو وہ طلاق بھیجی جو ان کی طلاقوں میں سے باقی رہ گئی تھی (صحیح مسلم: 148/41)۔ لہٰذا ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ قرار دیا“ کے الفاظ اسحاق بن ابی فروہ کا اپنا تصرف ہیں، ورنہ احادیث میں صرف یہ ہے: ”اس کے لیے نہ رہائش ہے اور نہ نفقہ۔“
اہم فوائد:
طلاق کی تین قسمیں ہیں:
1- طلاقِ رجعی: وہ طلاق جس میں شوہر عورت کی مرضی کے بغیر رجوع کر سکتا ہے۔ اگر عدت کے دوران دونوں میں سے کوئی فوت ہو جائے تو دوسرا اس کا وارث ہوتا ہے۔
2- طلاقِ بائن: وہ طلاق جس کے بعد شوہر کی حیثیت محض نکاح کا پیغام دینے والے کی رہ جاتی ہے، اور عورت اس کے لیے صرف نئے نکاح سے حلال ہوتی ہے۔
3- طلاقِ مغلظہ: جس کے بعد عورت اس کے لیے حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔
ایک ہی طہر میں ایک کلمے یا کئی کلمات سے طلاق:
مثلاً یوں کہے: ”تجھے تین طلاق۔“
یا: ”تجھے طلاق، طلاق، طلاق۔“
یا: ”تجھے طلاق، پھر طلاق، پھر طلاق۔“
یا: ”تجھے تین طلاق، یا سو، یا ہزار۔“
اس بارے میں علماء کے دو قول ہیں:
پہلا قول یہ ہے کہ اس سے تین طلاقیں لازم ہو جاتی ہیں۔
یہ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ کا قول ہے، اور ایک روایت کے مطابق امام احمد رحمہ اللہ کا بھی۔ ان کے اکثر اصحاب نے اسی کو اختیار کیا ہے، اور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے بہت سے سلف کا بھی یہی قول ہے۔
[ الجامع الكامل ، حدیث/صفحہ نمبر: 6570]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 919
طلاق کا بیان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابورکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”ام رکانہ سے رجوع کر لو۔“ ابورکانہ رضی اللہ عنہ بولے میں نے اسے تین طلاق دے دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو۔“ (ابوداؤد) اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں۔ پھر اس پر پشیمان ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورکانہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”وہ تینوں طلاقیں ایک ہی ہیں۔“ ان دونوں روایتوں میں ابن اسحٰق ہے جس کے متعلق کلام ہے اور ابوداؤد نے ایک دوسرے طریق سے اسے روایت کیا ہے جو اس سے بہتر ہے وہ یہ کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سھیمہ کو بالکل طلاق دے دی (یعنی تینوں طلاقیں) اور پھر کہا کہ بخدا میں نے ایک طلاق کی نیت کی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام رکانہ رضی اللہ عنہا کو واپس لوٹا دیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 919»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابورکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”ام رکانہ سے رجوع کر لو۔“ ابورکانہ رضی اللہ عنہ بولے میں نے اسے تین طلاق دے دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو۔“ (ابوداؤد) اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں۔ پھر اس پر پشیمان ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورکانہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”وہ تینوں طلاقیں ایک ہی ہیں۔“ ان دونوں روایتوں میں ابن اسحٰق ہے جس کے متعلق کلام ہے اور ابوداؤد نے ایک دوسرے طریق سے اسے روایت کیا ہے جو اس سے بہتر ہے وہ یہ کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سھیمہ کو بالکل طلاق دے دی (یعنی تینوں طلاقیں) اور پھر کہا کہ بخدا میں نے ایک طلاق کی نیت کی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام رکانہ رضی اللہ عنہا کو واپس لوٹا دیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 919»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث، حديث:2196.* فيه بعض بني أبي رافع مجهول، وحديث "طلّق أبوركانة امرأة في مجلس واحد" أخرجه أحمد:1 /265، وسنده ضعيف، داود بن حصين عن عكرمة منكر و ضعيف، وحديث "أن ركانة طلق امرأته سهيمة البتة: أخرجه أبوداود، الطلاق، حديث:2206 وسنده حسن.» تشریح:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر طلاق دینے والے کی نیت میں ایک ہی طلاق تھی تو ایک رجعی طلاق واقع ہوگی؟ بعض کا کہنا ہے کہ رکانہ رضی اللہ عنہ سے قسم لینے کامقصد یہ تھا کہ اگر انھوں نے تین کی نیت کی ہوگی تو تین واقع ہو جائیں گی۔
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے اور ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں اضطراب بھی پایا جاتا ہے۔
اور پھر یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی پہلی دونوں احادیث (۹۱۹ ‘ ۹۱۷) کے معارض بھی ہے‘ لہٰذا اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ قصۂ رکانہ والی حدیث کی تین سندیں ہیں اور مصنف رحمہ اللہ نے تینوں بیان کر دی ہیں۔
ان میں سے پہلی اور تیسری سند ‘ جنھیں ابوداود نے بیان کیا ہے‘ ضعیف ہیں۔
پہلی اس بنا پر کہ اسے ابن جریج کے واسطے سے روایت کیا گیا ہے‘ ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے بنو رافع میں سے کسی نے عکرمہ کے حوالے سے خبر دی ہے… جبکہ بنو رافع میں سے خبر دینے والا شخص مجہول ہے‘ لہٰذا یہ سند ضعیف ہوئی۔
رہی تیسری روایت‘جس میں طلاق مغلظہ کا ذکر ہے‘ اسے جریر بن حازم نے زبیربن سعید عن عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے بیان کیا ہے اور اسی طرح یہ نافع بن عُجیر عن رکانہ بن عبد یزید کی سند سے بھی مروی ہے‘ پہلی سند میں زبیر بن سعید ضعیف ہے۔
میزان الاعتدال میں ہے: لَیْسَ بِشَيْئٍ کہ اس کی کچھ حیثیت نہیں ہے۔
اور نسائی نے کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے۔
اور تقریب میں ہے کہ یہ لیّن الحدیث ہے۔
اور عبداللہ بن علی بن یزید بھی ضعیف ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب میں کہا ہے کہ یہ لیّن الحدیث ہے۔
اور میزان الاعتدال میں ہے کہ عقیلی نے کہا ہے: اس کی سند میں اضطراب ہے۔
اس کی حدیث کا کوئی متابع نہیں ہے۔
رہا اس کا باپ علی بن یزید! تو الخلاصۃ میں ہے کہ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی حدیث صحیح نہیں۔
اور ترمذی نے امام بخاری رحمہ اللہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ اس میں اضطراب ہے۔
اور دوسری سند میں نافع بن عجیر ضعیف ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں کہا ہے کہ نافع بن عجیر مجہول ہے۔
اس کے حالات کا قطعًاکسی کو علم نہیں کہ وہ کون تھا اور کیسا تھا؟ اور علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں کہا ہے کہ علل حدیث کے ماہر اور اس کے بارے میں سوجھ بوجھ رکھنے والے علماء‘ مثلاً: امام احمد بن حنبل‘ امام بخاری‘ ابوعبید اور ابومحمد بن حزم رحمہم اللہ وغیرہم نے طلاق بتہ والی حدیث کو قطعی ضعیف قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کے راوی ایسے مجہول لوگ ہیں جن کی عدالت اور ضبط معلوم نہیں ہیں۔
(فتاوٰی ابن تیمیۃ:۳۳ /۱۵) جب اس سند کا یہ حال ہے تو پھر اس کے ضعف میں کوئی شک و ریب باقی نہیں رہ جاتا۔
یہ تو بحث تھی پہلی اور تیسری سند کی‘ رہی دو سری سندجسے ابوداود نے بیان نہیں کیابلکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے بیان کیا ہے تو اس کے تمام راوی ثقہ اور قابل حجت ہیں۔
البتہ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کے متعلق ضرور کلام ہے۔
اور یہ معلوم ہی ہے کہ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ میں تدلیس کے ماسوا اور کوئی قابل ذکر کمزوری نہیں ہے۔
اس سند میں اس نے سماع کی صراحت کر دی ہے‘ لہٰذا تدلیس کا شبہ بھی ختم ہوگیا۔
اب یہ روایت بالکل درست ثابت ہوگئی۔
مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سب سے عمدہ اور صحیح ترین طریق وہی ہے جسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔
لیکن ابوداود نے جب یہ طریق روایت نہیں کیا توانھوں نے پہلے اور تیسرے طریق کا موازنہ کرتے ہوئے تیسرے کو ترجیح دی ہے اور اسے بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے: یہ ابن جریج کے طریق سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں‘ کیونکہ اس (تیسرے طریق) کے راوی خود رکانہ کے گھر والے ہیں۔
اور اہل خانہ کو زیادہ معلومات ہوتی ہیں۔
(أبوداود) اس کے یہ معنی نہیں کہ ابوداود کے نزدیک یہ صحیح ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دو ضعیف احادیث میں سے قابل ترجیح ہے اور اس میں ضعف کم ہے۔
اور نافع بن عجیر کی روایت کا مسند احمد کی روایت سے امام ابوداود رحمہ اللہ کے ہاں راجح ہونا ان کے کلام سے ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ امام ابوداود نے اسے ذکر ہی نہیں کیا‘ اسی لیے ہم بھی اس پر بحث نہیں کرتے۔
اس ضروری وضاحت کو سمجھ لینے کے بعد اب یہ جان لیجیے کہ اس حدیث کے بارے میں مصنف (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ) کی گفتگو دو وجہ سے مخدوش ہے۔
پہلی یہ کہ پہلے اور دوسرے طریق کو بیان کرنے کے بعد (مصنف رحمہ اللہ نے) کہا ہے کہ ان دونوں احادیث کی سند میں محمد بن اسحاق راوی ہے جس میں کلام ہے باوجودیکہ محمد بن اسحاق پہلے طریق میں سرے سے موجود ہی نہیں‘ وہ تو صرف دوسرے طریق میں ہے۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مصنف نے تیسری روایت ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوداود نے اسے ایک اور طریق سے بیان کیا ہے جو اس (پہلے) سے بہتر ہے۔
ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی ہوگا کہ یہ طریق‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بہتر ہے یا دوسرے طریق سے بہتر ہے جسے امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے‘ اس لیے کہ قریب الذکر وہی ہے۔
بہرحال دونوں میں سے کوئی بھی ہو آپ یہ تو معلوم کر چکے ہیں کہ صحیح اور قوی ترین طریق دوسرا ہی ہے۔
اگر تو مؤلف کی مراد یہ ہے کہ امام ابوداود کے نزدیک یہ احسن ہے تو آپ جان چکے ہیں کہ امام ابوداود کے کلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ میرے نزدیک یہ احسن ہے تو سابقہ تفصیل کی روشنی میں یہ بھی درست نہیں۔
راویٔ حدیث:
«حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ» رکانہ میں ”را“ پر ضمہ ہے۔
یہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن مطلب بن عبدمناف مطّلبی ہیں۔
فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی کی تھی۔
اور یہی کشتی ان کے اسلام لانے کا باعث بنی۔
مدینہ چلے آئے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے شروع میں یہیں فوت ہوئے۔
بعض کے نزدیک ۴۱ ہجری میں فوت ہوئے۔
ان کی بیوی سہیمہ بنت عمیر مزنیہ ہے۔
«محمد بن اسحاق» ان کی کنیت ابوبکر اور بعض نے ابو عبداللہ بیان کی ہے‘۔
پورا نام محمد بن اسحاق بن یسار مطلبی ہے۔
قیس بن مخرمہ مدنی کے غلام تھے۔
مغازی و سیر کے امام تھے۔
۱۵۰ ہجری میں وفات پائی۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کے بعد وفات پائی۔
«أخرجه أبوداود، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث، حديث:2196.* فيه بعض بني أبي رافع مجهول، وحديث "طلّق أبوركانة امرأة في مجلس واحد" أخرجه أحمد:1 /265، وسنده ضعيف، داود بن حصين عن عكرمة منكر و ضعيف، وحديث "أن ركانة طلق امرأته سهيمة البتة: أخرجه أبوداود، الطلاق، حديث:2206 وسنده حسن.»
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر طلاق دینے والے کی نیت میں ایک ہی طلاق تھی تو ایک رجعی طلاق واقع ہوگی؟ بعض کا کہنا ہے کہ رکانہ رضی اللہ عنہ سے قسم لینے کامقصد یہ تھا کہ اگر انھوں نے تین کی نیت کی ہوگی تو تین واقع ہو جائیں گی۔
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے اور ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں اضطراب بھی پایا جاتا ہے۔
اور پھر یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی پہلی دونوں احادیث (۹۱۹ ‘ ۹۱۷) کے معارض بھی ہے‘ لہٰذا اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ قصۂ رکانہ والی حدیث کی تین سندیں ہیں اور مصنف رحمہ اللہ نے تینوں بیان کر دی ہیں۔
ان میں سے پہلی اور تیسری سند ‘ جنھیں ابوداود نے بیان کیا ہے‘ ضعیف ہیں۔
پہلی اس بنا پر کہ اسے ابن جریج کے واسطے سے روایت کیا گیا ہے‘ ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے بنو رافع میں سے کسی نے عکرمہ کے حوالے سے خبر دی ہے… جبکہ بنو رافع میں سے خبر دینے والا شخص مجہول ہے‘ لہٰذا یہ سند ضعیف ہوئی۔
رہی تیسری روایت‘جس میں طلاق مغلظہ کا ذکر ہے‘ اسے جریر بن حازم نے زبیربن سعید عن عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے بیان کیا ہے اور اسی طرح یہ نافع بن عُجیر عن رکانہ بن عبد یزید کی سند سے بھی مروی ہے‘ پہلی سند میں زبیر بن سعید ضعیف ہے۔
میزان الاعتدال میں ہے: لَیْسَ بِشَيْئٍ کہ اس کی کچھ حیثیت نہیں ہے۔
اور نسائی نے کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے۔
اور تقریب میں ہے کہ یہ لیّن الحدیث ہے۔
اور عبداللہ بن علی بن یزید بھی ضعیف ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب میں کہا ہے کہ یہ لیّن الحدیث ہے۔
اور میزان الاعتدال میں ہے کہ عقیلی نے کہا ہے: اس کی سند میں اضطراب ہے۔
اس کی حدیث کا کوئی متابع نہیں ہے۔
رہا اس کا باپ علی بن یزید! تو الخلاصۃ میں ہے کہ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی حدیث صحیح نہیں۔
اور ترمذی نے امام بخاری رحمہ اللہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ اس میں اضطراب ہے۔
اور دوسری سند میں نافع بن عجیر ضعیف ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں کہا ہے کہ نافع بن عجیر مجہول ہے۔
اس کے حالات کا قطعًاکسی کو علم نہیں کہ وہ کون تھا اور کیسا تھا؟ اور علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں کہا ہے کہ علل حدیث کے ماہر اور اس کے بارے میں سوجھ بوجھ رکھنے والے علماء‘ مثلاً: امام احمد بن حنبل‘ امام بخاری‘ ابوعبید اور ابومحمد بن حزم رحمہم اللہ وغیرہم نے طلاق بتہ والی حدیث کو قطعی ضعیف قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کے راوی ایسے مجہول لوگ ہیں جن کی عدالت اور ضبط معلوم نہیں ہیں۔
(فتاوٰی ابن تیمیۃ:۳۳ /۱۵) جب اس سند کا یہ حال ہے تو پھر اس کے ضعف میں کوئی شک و ریب باقی نہیں رہ جاتا۔
یہ تو بحث تھی پہلی اور تیسری سند کی‘ رہی دو سری سندجسے ابوداود نے بیان نہیں کیابلکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے بیان کیا ہے تو اس کے تمام راوی ثقہ اور قابل حجت ہیں۔
البتہ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کے متعلق ضرور کلام ہے۔
اور یہ معلوم ہی ہے کہ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ میں تدلیس کے ماسوا اور کوئی قابل ذکر کمزوری نہیں ہے۔
اس سند میں اس نے سماع کی صراحت کر دی ہے‘ لہٰذا تدلیس کا شبہ بھی ختم ہوگیا۔
اب یہ روایت بالکل درست ثابت ہوگئی۔
مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سب سے عمدہ اور صحیح ترین طریق وہی ہے جسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔
لیکن ابوداود نے جب یہ طریق روایت نہیں کیا توانھوں نے پہلے اور تیسرے طریق کا موازنہ کرتے ہوئے تیسرے کو ترجیح دی ہے اور اسے بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے: یہ ابن جریج کے طریق سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں‘ کیونکہ اس (تیسرے طریق) کے راوی خود رکانہ کے گھر والے ہیں۔
اور اہل خانہ کو زیادہ معلومات ہوتی ہیں۔
(أبوداود) اس کے یہ معنی نہیں کہ ابوداود کے نزدیک یہ صحیح ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دو ضعیف احادیث میں سے قابل ترجیح ہے اور اس میں ضعف کم ہے۔
اور نافع بن عجیر کی روایت کا مسند احمد کی روایت سے امام ابوداود رحمہ اللہ کے ہاں راجح ہونا ان کے کلام سے ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ امام ابوداود نے اسے ذکر ہی نہیں کیا‘ اسی لیے ہم بھی اس پر بحث نہیں کرتے۔
اس ضروری وضاحت کو سمجھ لینے کے بعد اب یہ جان لیجیے کہ اس حدیث کے بارے میں مصنف (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ) کی گفتگو دو وجہ سے مخدوش ہے۔
پہلی یہ کہ پہلے اور دوسرے طریق کو بیان کرنے کے بعد (مصنف رحمہ اللہ نے) کہا ہے کہ ان دونوں احادیث کی سند میں محمد بن اسحاق راوی ہے جس میں کلام ہے باوجودیکہ محمد بن اسحاق پہلے طریق میں سرے سے موجود ہی نہیں‘ وہ تو صرف دوسرے طریق میں ہے۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مصنف نے تیسری روایت ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوداود نے اسے ایک اور طریق سے بیان کیا ہے جو اس (پہلے) سے بہتر ہے۔
ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی ہوگا کہ یہ طریق‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بہتر ہے یا دوسرے طریق سے بہتر ہے جسے امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے‘ اس لیے کہ قریب الذکر وہی ہے۔
بہرحال دونوں میں سے کوئی بھی ہو آپ یہ تو معلوم کر چکے ہیں کہ صحیح اور قوی ترین طریق دوسرا ہی ہے۔
اگر تو مؤلف کی مراد یہ ہے کہ امام ابوداود کے نزدیک یہ احسن ہے تو آپ جان چکے ہیں کہ امام ابوداود کے کلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ میرے نزدیک یہ احسن ہے تو سابقہ تفصیل کی روشنی میں یہ بھی درست نہیں۔
«حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ» رکانہ میں ”را“ پر ضمہ ہے۔
یہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن مطلب بن عبدمناف مطّلبی ہیں۔
فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی کی تھی۔
اور یہی کشتی ان کے اسلام لانے کا باعث بنی۔
مدینہ چلے آئے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے شروع میں یہیں فوت ہوئے۔
بعض کے نزدیک ۴۱ ہجری میں فوت ہوئے۔
ان کی بیوی سہیمہ بنت عمیر مزنیہ ہے۔
«محمد بن اسحاق» ان کی کنیت ابوبکر اور بعض نے ابو عبداللہ بیان کی ہے‘۔
پورا نام محمد بن اسحاق بن یسار مطلبی ہے۔
قیس بن مخرمہ مدنی کے غلام تھے۔
مغازی و سیر کے امام تھے۔
۱۵۰ ہجری میں وفات پائی۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کے بعد وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 919]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2825
کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نیل گائے کی ٹانگ بھیجی جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے، اور آپ احرام باندھے ہوئے مقام قدید میں تھے۔ تو آپ نے اسے انہیں واپس لوٹا دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2825]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نیل گائے کی ٹانگ بھیجی جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے، اور آپ احرام باندھے ہوئے مقام قدید میں تھے۔ تو آپ نے اسے انہیں واپس لوٹا دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2825]
اردو حاشہ:
قدید بھی ایک مقام کا نام ہے۔ پچھلی احادیث میں ودان یا ابواء کا ذکر ہے۔ یہ سب مقامات قریب قریب ہیں۔ کوئی اختلاف نہیں۔ دو شہروں کی درمیانی جگہ کو کسی شہر کی طرف بھی منسوب کیا جا سکتا ہے۔
قدید بھی ایک مقام کا نام ہے۔ پچھلی احادیث میں ودان یا ابواء کا ذکر ہے۔ یہ سب مقامات قریب قریب ہیں۔ کوئی اختلاف نہیں۔ دو شہروں کی درمیانی جگہ کو کسی شہر کی طرف بھی منسوب کیا جا سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2825]
Sunan Abi Dawud Hadith 2196 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي