سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب في من أسلم وعنده نساء أكثر من أربع أو أختان
باب: قبول اسلام کے وقت آدمی کے پاس چار سے زائد عورتیں یا دو بہنیں عقد نکاح میں ہوں تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَاضِي الْكُوفَةِ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ، بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2242]
احمد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ ”ہم سے بکر بن عبدالرحمٰن، قاضی کوفہ نے بیان کیا، انہوں نے عیسیٰ بن مختار سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حمیضہ بن شمرذل سے، انہوں نے سیدنا قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11089) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1952)
انظر الحديث السابق (2241)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1952)
انظر الحديث السابق (2241)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2242 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2242
فوائد ومسائل:
یہ سند مزکورہ بالا قول امام ابو داود کی دلیل اور احمد بن ابراہیم کے شیخ ہیشم کی متابع ہے کہ صحابی کا نام قیس بن حارث ہی ہے۔
(دونوں روایات شیخ البانی ؒکے نزدیک صحیح ہیں۔
)
یہ سند مزکورہ بالا قول امام ابو داود کی دلیل اور احمد بن ابراہیم کے شیخ ہیشم کی متابع ہے کہ صحابی کا نام قیس بن حارث ہی ہے۔
(دونوں روایات شیخ البانی ؒکے نزدیک صحیح ہیں۔
)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2242]
Sunan Abi Dawud Hadith 2242 in Urdu
حميضة بن الشمردل الأسدي ← قيس بن الحارث الأسدي