🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب من رأى التحول
باب: عدت میں نقل مکانی کو جائز کہنے والوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2301
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:"نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240". قَالَ عَطَاءٌ:" إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ سورة البقرة آية 240"، قَالَ عَطَاءٌ:" ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں «غير إخراج» (سورة البقرہ: ۲۴۰) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کر دی گئی ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے، عطاء کہتے ہیں: اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان «فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن» اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے کئے ہوئے کا تم پر کوئی گناہ نہیں کے مطابق نکل جائے، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آ گیا، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہو گیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2301]
جناب عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آیت کریمہ «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» نے عورت کے لیے شوہر کے اہل میں عدت گزارنے کو منسوخ کر دیا ہے، سو جہاں چاہے عدت گزارے۔ عطاء نے (اس قول کی وضاحت میں) کہا: چاہے تو شوہر کے اہل میں عدت گزارے جیسے کہ اس کے لیے وصیت ہے اور چاہے تو وہاں سے رخصت ہو جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [سورة البقرة: 240] ۔ عطاء کہتے ہیں کہ پھر آیت میراث نازل ہوئی، پس وہ سکنیٰ منسوخ ہو گیا تو جہاں چاہے عدت گزارے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التفسیر 41 (4531)، الطلاق 50 (5344)، سنن النسائی/ الکبری/ الطلاق (5725)، (تحفة الأشراف: 5900) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5344، 4531)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار
Newعبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥شبل بن عباد المكي
Newشبل بن عباد المكي ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي
ثقة
👤←👥موسى بن مسعود النهدي، أبو حذيفة
Newموسى بن مسعود النهدي ← شبل بن عباد المكي
صدوق سيء الحفظ
👤←👥أحمد بن شبوية الخزاعي، أبو الحسن
Newأحمد بن شبوية الخزاعي ← موسى بن مسعود النهدي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2301 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2301
فوائد ومسائل:
خاوند کی وفات پر عورت کے لئے عدت کا مسئلہ سورۃ بقرہ کی دوآیات میں ذکر ہواہے، پہلی آیت ٢٣٤ میں ہے: (وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا) اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور چھوڑ جائیں اپنی بیویاں، تو چاہے کہ وہ عورتیں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن تک روکے رکھیں۔
اور اس کے بعد آیت 240 میں ہے: (وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ) اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اپنی بیویاں، تو ان پر ہے کہ اپنی بیویوں کے لئے وصیت گر جائیں کہ انہیں ایک سال تک خرچ دینا ہے اور گھر سے نکالنا بھی نہیں اگر وہ ازخود نکل جائیں اور اپنے حق میں جو بھلی بات کریں تو اس کا تم پر گناہ نہیں ہے ان دونوں آیات کی تفسیر میں اصحاب ابن عباس رضی اللہ کا اختلاف ہے۔
جمہور کہتے ہیں کہ ایک سال تک تفقہ وسکنی کا حکم پہلے کا ہے۔
پھر اسے منسوخ کرکے چار ماہ دس دن کر دیا گیا۔
لیکن مجاہد اور عطاء حضرت ابن عباس سے بیان کرتے ہیں کہ چار ماہ دس دن عدت کا حکم شروع ہی سے تھا۔
اسے منسوخ کرکے ایک سال تک بڑھا دیا گیا۔
اب عورت پر لازم نہیں ہے کہ شوہر کے اہل میں عدتگ گزارے جیسے کہ (فإن خرجن) سے معلوم ہو رہا ہے ایسے ہی شوہر کے وارثوں پر جو پابندی تھی کہ ایک سال تک خرچ دیں اورسکنی بھی، تو وراثت کے احکام نازل ہونے پر یہ بھی منسوخ ہے۔
امام ابو داودؒ نے یہ باب ذکر کرکے ان حضرات کا موقف بیان کیا ہے، مگر یہ موقف گزشتہ حدیث فریعہ بنت مالک کی روشنی میں راجح نہیں ہے الا یہ کہ یہ سمجھا جائے کہ چار ماہ دس دن کی عدت اور ان دنوں میں شوہر کے اہل میں رہنا واجب ہے۔
بعد ازاں سات ماہ بیس دن میں عورت کو منتقل ہوجانے کی رخصت ہے، درج ذیل حدیث اسی تفصیل کی روشنی میں پڑھی جائے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2301]

Sunan Abi Dawud Hadith 2301 in Urdu