🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. باب فِي الْجُنُبِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ
باب: جنبی مسجد میں داخل ہو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 232
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دِجَاجَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهُ بُيُوتِ أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا رَجَاءَ أَنْ تَنْزِلَ فِيهِمْ رُخْصَةٌ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حال یہ تھا کہ بعض صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد سے لگتے ہوئے کھل رہے تھے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر کر دوسری جانب کر لو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں یا صحابہ کرام کے گھروں میں) داخل ہوئے اور لوگوں نے ابھی کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، اس امید پر کہ شاید ان کے متعلق کوئی رخصت نازل ہو، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ان کے پاس آئے تو فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر لو، کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں سمجھتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 232]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور (دیکھا کہ) بعض اصحاب کے گھروں کے دروازے مسجد کی جانب کھلتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان گھروں (کے دروازوں) کو مسجد کے رخ سے پھیر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائے اور ان لوگوں نے کوئی تبدیلی نہ کی تھی، اس بنا پر کہ شاید کوئی رخصت نازل ہو جائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے اور فرمایا ان گھروں کے رخ مسجد کی جانب سے پھیر لو۔ بیشک میں مسجد کو حائضہ عورت اور جنبی کے لیے حلال نہیں کرتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ راوی حدیث (افلت بن خلیفہ کا دوسرا نام) فلیت عامری (بھی) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17828) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں جسرہ بنت دجاجہ لین الحدیث ہیں، لیکن حدیث کا معنی دیگر احادیث سے ثابت ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث باعتبار سند ضعیف ہے۔ البتہ حدیث کا معنی دیگر احادیث سے ثابت ہے۔ جنبی مسجد میں سے راستہ پار کرتے گزر سکتا ہے ٹھہر نہیں سکتا اور یہی حکم حائضہ اور نفاس والی عورت کا ہے۔ «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارىٰ حتىٰ تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتىٰ تغتسلوا» (سورۃ النساء ۴۳)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (462)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥جسرة بنت دجاجة العامرية
Newجسرة بنت دجاجة العامرية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مقبول
👤←👥أفلت بن خليفة العامري، أبو حسان
Newأفلت بن خليفة العامري ← جسرة بنت دجاجة العامرية
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← أفلت بن خليفة العامري
ثقة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
232
وجهوا هذه البيوت عن المسجد فإني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب
بلوغ المرام
106
إني لا احل المسجد لحائض ولا جنب
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 232 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 232
فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث باعتبار سند ضعیف ہے۔
قرآن مجید میں اس طرح آیا ہے کہ جنبی مسجد میں سے راستہ پار کرتے گزر سکتا ہے، ٹھہر نہیں سکتا اور یہی حکم حائضہ اور نفاس والی عورت کا ہے۔
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا» [4-النساء: 43]
اے ایمان والو! جب تم شراب کی مدہوشی میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ حتیٰ کہ (تمہیں ہو ش آ جائے اور) جاننے بوجھنے لگو جو تم کہتے ہو اور نماز کے قریب نہ جاؤ جبکہ تم حالت جنابت میں ہو حتی کہ غسل کر لو، ہاں اگر راه چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 232]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 106
حائضہ اور جنبی دونوں مسجد میں قیام نہیں کر سکتے
«. . . وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏إني لا احل المسجد لحائض ولا جنب . . .»
. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حائضہ عورت اور حالت جنابت میں مبتلا مرد کیلئے مسجد میں داخلہ حلال نہیں کرتا . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 106]
لغوی تشریح:
«لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ» «إحلال» سے واحد متکلم کا صیغہ ہے۔ میں مسجد میں داخلے کو حلال نہیں کرتا۔ یہ صیغہ تحریم کے بارے میں صریح اور بہت واضح ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ حائضہ عورت اور جنبی دونوں مسجد میں نہ قیام کر سکتے ہیں اور نہ عام حالت میں مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں۔
➋ اگر مسجد کے علاوہ دوسرا گزرنے کا کوئی راستہ نہ ہو تو ائمہ میں سے امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کے نزدیک مسجد میں سے گزرنا جائز ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ دونوں کا مسجد میں سے گزرنا ناجائز قرار دیتے ہیں۔ یہ حدیث امام موصوف کی رائے کی تائید کرتی ہے۔
➌ جائز ہونے کی دلیل قرآن مجید کی آیت: «إِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ» [النساء4: 43] ہے، یعنی جنبی مسجد میں نہ جائے۔ ہاں، اگر مسجد میں سے گزرنا پڑے تو مجبوراً گزر سکتا ہے۔ اور حدیث میں جو ممانعت آئی ہے وہ ٹھہرنے کی ہے، نہ کہ گزرنے کی۔
➍ امام احمد رحمہ اللہ تو آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی بنا پر وضو کے بعد مسجد میں ٹھہرنے کو بھی جائز سمجھتے ہیں اور جو کوئی آدمی ضرورتاً مسجد میں سو گیا ہو اس حالت میں اسے حالت جنابت لاحق ہو گئی تو ایسے آدمی کے لیے بالاتفاق مسجد سے نکل جانا ضروری ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 106]

Sunan Abi Dawud Hadith 232 in Urdu