🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب إذا رؤي الهلال في بلد قبل الآخرين بليلة
باب: اگر کسی شہر میں دوسرے شہر سے ایک رات پہلے چاند نظر آ جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2332
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ،" أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ ابْنَةَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، فَاسْتَهَلَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرَ، فَسَأَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ قُلْتُ: رَأَيْتُهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ وَرَآهُ النَّاسُ، قَالَ: لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُهُ حَتَّى نُكْمِلَ الثَّلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَفَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ قَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
کریب کہتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، میں نے (وہاں پہنچ کر) ان کی ضرورت پوری کی، میں ابھی شام ہی میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، ہم نے جمعہ کی رات میں چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آ گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے چاند کے متعلق پوچھا کہ تم نے چاند کب دیکھا؟ میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات میں، فرمایا: تم نے خود دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے، اور روزہ رکھا ہے، معاویہ نے بھی روزہ رکھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: لیکن ہم نے سنیچر کی رات میں چاند دیکھا ہے لہٰذا ہم چاند نظر آنے تک روزہ رکھتے رہیں گے، یا تیس روزے پورے کریں گے، تو میں نے کہا کہ کیا معاویہ کی رؤیت اور ان کا روزہ کافی نہیں ہے؟ کہنے لگے: نہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2332]
جناب کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ) ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے شام میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، چنانچہ میں شام آیا اور وہاں ان کا کام مکمل کیا اور رمضان کا چاند نظر آ گیا جبکہ میں ابھی شام ہی میں تھا، ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں، میں مدینے واپس پہنچا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے حال احوال پوچھے اور چاند کا ذکر کیا کہ تم نے اسے کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: میں نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے کہا: کیا تم نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں، اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا تھا اور پھر سب نے روزے رکھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا، انہوں نے کہا: مگر ہم نے اسے ہفتے کی رات کو دیکھا تھا اور ہم روزے رکھیں گے اور پورے تیس کریں گے (اپنی رؤیت کے مطابق) یا چاند دیکھ لیں، میں نے کہا: کیا آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کے چاند دیکھنے اور روزے رکھنے پر کفایت نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصیام 5 (1087)، سنن الترمذی/الصیام 9 (693)، سنن النسائی/الصیام 5 (2113)، (تحفة الأشراف: 6357)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/306) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1087)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن حويطب القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن حويطب القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← محمد بن حويطب القرشي
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2113
لا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما أو نراه فقلت أو لا تكتفي برؤية معاوية وأصحابه قال لا هكذا أمرنا رسول الله
صحيح مسلم
2528
متى رأيتم الهلال فقلت رأيناه ليلة الجمعة فقال أنت رأيته فقلت نعم ورآه الناس وصاموا وصام معاوية فقال لكنا رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين أو نراه فقلت أو لا تكتفي برؤية معاوية وصيامه فقال لا هكذا أمرنا رسول الله
سنن أبي داود
2332
متى رأيتم الهلال قلت رأيته ليلة الجمعة قال أنت رأيته قلت نعم وصاموا وصام معاوية ورآه الناس قال لكنا رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصومه حتى نكمل الثلاثين أو نراه فقلت أفلا تكتفي برؤية معاوية وصيامه قال لا هكذا أمرنا رسول الله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2332 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2332
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ ہر علاقے والوں کے لیے ان کی اپنی رؤیت کا اعتبار ہے۔
امام شافعی رحمة اللہ علیہ اس میں مزید یوں فرماتے ہیں کہ اگر مختلف علاقوں کا مطلع ایک ہو تو ایک دوسرے کی رؤیت ان کے لیے معتبر ہو گی ورنہ نہیں۔
امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2332]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2113
رویت ہلال میں ایک شہر والوں سے دوسرے شہر والوں کے اختلاف کا بیان۔
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں: ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام (ہی) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری (ایام) میں مدینہ آ گیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے (حال چال) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، (اور مجھ سے) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب د۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2113]
اردو حاشہ:
(1) یہی حکم دیا ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص چاند دیکھے بلکہ کوئی ایک معتبر آدمی بھی چاند دیکھ لے یا کسی اور جگہ چاند نظر آنے کی خبر پہنچ جائے تو اس علاقے کے تمام لوگ روزہ رکھیں گے یا عید کریں گے اور نیا مہینہ شروع ہو جائے گا، البتہ یہ تحقیق ضروری ہے کہ دونوں جگہوں میں اتنا فاصلہ نہ ہو جتنے فاصلے سے چاند دیکھنے میں ایک یا دو دن کا فرق پڑ سکتا ہے۔ جس جگہ چاند نظر آیا ہو، اس کے اردگرد جتنے علاقے میں وہ چاند نظر آ سکتا ہو، اتنے علاقے کے لیے وہ رؤیت معتبر ہوگی۔ اس سلسلے میں علمائے رصد سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ آج کل ہر اسلامی ملک اتنا چھوٹا ہے کہ اس ملک میں کسی جگہ بھی چاند نظر آجائے تو وہ پورے ملک میں نظر آسکتا ہے، لہٰذا ایک ملک میں کسی جگہ چاند نظر آنے پر سارے ملک میں روزہ یا عید ہو سکتے ہیں، البتہ مختلف ممالک میں چاند مختلف ہو سکتا ہے، مثلاً: سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر ہیں۔ اس سلسلے میں علمائے ہیئت و رصد ہی صحیح فیصلہ کر سکتے ہیں، لہٰذا رؤیت ہلال کمیٹی میں ان کی شرکت انتہائی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں چند اصول مسلمہ ہیں: * جب ایک شہر میں چاند نظر آئے تو اس سے ملتے جلتے طول بلد پر واقع تمام شہروں میں چاند ہوگا، خواہ ان کا درمیان فاصلہ ہزاروں میل ہی میں ہو۔ *کسی شہر میں چاند نظر آئے تو اس سے مغرب میں واقع تمام علاقوں میں خواہ مخواہ چاند نظر آجائے گا، دیکھنے کی ضرورت نہیں، خواہ فاصلہ ہزاروں میل ہو، البتہ اس کے الٹ ضروری نہیں، یعنی مغرب کا چاند مشرق کے لیے معتبر نہیں، الگ دیکھنا ہوگا۔ *بالائی علاقے میں چاند نظر آئے تو نشیبی علاقے میں چاند کا نظر آنا ضروری نہیں، البتہ اس کے الٹ ضروری ہے، یعنی نشیبی علاقے میں چاند نظر آیا تو بالائی علاقے میں لازماً چاند ہوگا، اور یہ اصول بدیہی ہیں، ان میں اختلاف ممکن نہیں۔
(2) مدینہ منورہ اور دمشق کے درمیان ویسے تو کافی فاصلہ ہے مگر طول بلد کے لحاظ سے صرف چھ درجے کا فرق ہے۔ گویا طلوع اور غروب میں 24 منٹ کا فرق ہے، اتنے فرق سے چاند کی رؤیت میں فرق نہیں پڑتا۔ دونوں جگہ ایک ہی دن چاند ہونا چاہیے، مگر اس دور میں پیغام رسانی کے تیز ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے اتنے فاصلے سے بروقت خبر پہنچنا ناممکن تھا، لہٰذا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے لیے شام (یعنی دمشق جو اس وقت دارالخلافہ تھا) کی رؤیت کو کافی نہ سمجھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2113]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2528
ابوکریب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اُم الفضل بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں شام حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا میں شام آیا اور ان کی ضرورت پوری کی۔ اور چاند جبکہ میں شام ہی میں تھا نمودار ہو گیا میں نے چاند جمعہ کی رات دیکھا، پھر مہینہ کے آخر میں مدینہ آ گیا تو مجھ سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ پوچھا، پھر چاند کا تذکرہ کیا اور کہا تم نے چاند کب دیکھا؟ میں نے کہا: ہم نے اسے جمعہ کی رات دیکھا، تو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2528]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

رؤیت ہلال کے سلسلہ میں ائمہ میں اختلاف ہے کہ اگر ایک علاقہ میں چاند نظر آ جائے تو دوسرے علاقے کے لوگ کیا کریں؟ 1۔
امام اعظم یعنی امیر وحاکم رؤیت قبول کر لے تو سب کو روزہ رکھنا ہوگا وگرنہ جہاں نظر آیا ہے وہیں کے لوگ روزہ رکھیں گے۔

ہرعلاقے کے لیے اپنی اپنی رؤیت ہے۔

اگر ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے تو ہرجگہ کے لوگوں کو اس کا اعتبار کرنا ہو گا۔

اختلاف مطلع کا لحاظ ہے،
جن علاقوں کا مطلع ایک ہے،
اگر ایک علاقہ میں نظر آ گیا ہے تو دوسرے میں بھی نظر آنا چاہیے تھا۔
کسی سبب یاعارضہ کی وجہ سے نظر نہیں آ سکا۔
اس طرح ایک مطلع والوں کے لیے آپس میں رؤیت بہتر ہے۔
عراقیوں اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف یہی ہے اور یہی بات درست ہے۔
اگر مطالع الگ الگ ہیں ایک جگہ نظر آنے سے دوسری جگہ نظر آنا ضروری نہیں ہے۔
تو پھر ایک جگہ کی رؤیت دوسری جگہ کے لیے معتبر نہیں ہے۔

ایک صوبہ یا ایک ملک کے سب علاقوں کا ایک حکم ہے۔

اوربقول نووی رحمۃ اللہ علیہ غزالی وغیرہما مسافت قصر کا لحاظ ہے مسافت قصر سے کم ہوتو حکم ایک ہے وگرنہ الگ الگ۔

موجودہ دور میں رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلان کا اعتبار ہے وہ شرعی اصولوں کے مطابق گواہی لے کر اعلان کر دے تو وہ معتبر ہو گا۔

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام احمد لیث بن سعد رحمۃ اللہ علیہ اور بعض شوافع رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک بیان کیا جاتا ہے کہ:
(صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته)
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزے ختم کرو،
کا حکم عام ہے سب مسلمان اس کے مخاطب ہیں۔
تو اس کا معنی یہ ہوا کہ تمام مسلمان ممالک میں روزے کا آغاز اور اختتام یکساں ہونا چاہیے اور چاند کی تاریخ تقریباً یکساں ہونی چاہیے حالانکہ واقعہ یہ ممکن نہیں ہے۔
دوسری طرف اس بات پر سب کا اتفاق ہے اگر وہ جگہوں کا فاصلہ غیر معمول ہو جیسے حجاز اور اندلس تو ان کاحکم الگ الگ ہے۔
(بدایۃ المجتھد ج1)
۔

رمضان کے چاند کے لیے ایک آدمی کی شہادت اکثرعلماء کے نزدیک کافی ہے۔
اور شوال کے چاند کے لیے ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دو آدمیوں کی شہادت معتبر ہے۔
لیکن قاضی شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابوثور رحمۃ اللہ علیہ کے مؤقف کی تائید کی ہے کہ شوال کے لیے بھی رمضان کی طرح ایک گواہی کافی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2528]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، صحیح مسلم 2528
دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر عید کرو، اگر (29 شعبان کو) بادل ہوں تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزے رکھنا شروع کرو۔ (صحیح بخاری: 1909،صحیح مسلم 1081،مفہوماً)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر شہر اور ہر علاقے کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھ کر رمضان کے روزے رکھنا شروع کریں گے اور اسی طرح عید کریں گے۔
یاد رہے کہ دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے مثلاً اگر سعودی عرب میں چاند نظر آجائے تو حضرو کے لوگ رمضان کے روزے رکھنا شروع نہیں کریں گے۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں مُلک شام میں جمعہ کی رات کو چاند نظر آیا جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مدینہ طیبہ میں ہفتہ کی رات کو چاند دیکھا تھا، پھر انھوں نے اپنے (ثقہ) شاگرد کے کہنے پر فرمایا: ہم تو تیس تک روزے رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ چاند نظر آ جائے۔ پوچھا گیا: کیا آپ (سیدنا) معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور اُن کے روزے کا کوئی اعتبار نہیں کرتے؟ انھوں نے فرمایا: کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا تھا۔(صحیح مسلم: 1087)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ملک شام کی رُویت مدینے میں معتبر نہیں ہے۔
درج ذیل محدثین و علماء نے اس حدیث پر ابواب باندھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ ہر علاقے کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھیں گے:
امام ترمذی رحمہ اللہ (باب ماجاء لکل أھل بلد رؤیتھم) سنن الترمذی (693)
امام الائمۃ شیخ الاسلام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (باب الدلیل علٰی أن الواجب علٰی أھل کل بلد صیام رمضان لرؤیتھم، لا رؤیۃ غیرھم) صحیح ابن خزیمہ (3/ 205 ح 1916)
علامہ نووی (باب بیان أن لکل بلد رؤیتھم و أنھم إذا رأوا الھلال ببلد لا یثبت حکمہ لما بعد عنھم) شرح صحیح مسلم (ج7ص 197 تحت ح 1087،طبع احیاء التراث العربی بیروت،لبنان)
محمد بن خلیفہ الوشتابی الابی (حدیث لکل قوم رؤیتھم) شرح صحیح مسلم (ج4 ص 19 ح1087)
ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی (ومن باب: لأھل کل بلد رؤیتھم عند التباعد) المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم (ج3ص 141 ح 955)
ابو جعفر الطحاوی نے فر مایا: اس حدیث میں یہ ہے کہ ابن عباس نے اپنے شہر کے علاوہ دوسرے شہر کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں کیا الخ (شرح مشکل الآثار 1/ 423ح 481)
محدثین کرام اور شارحین حدیث کے اس تفقہ کے مقابلے میں چودھویں صدی اور متأخر علماء کے منطقی استدلالات مردود ہیں، جو حدیثِ ابن عباس کو موقوف وغیرہ کہہ کر اپنی تاویلات کا نشانہ بناتے ہیں۔
حافظ ابن عبدالبر الاندلسی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ خراسان کی رُویت کا اندلس میں اور اندلس کی رُویت کا خراسان میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔ (الاستذکار 3/ 283 ح 592)
تنبیہ: یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگ ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید کریں۔
جغرافیائی لحاظ سے ایسا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ جب مکہ و مدینہ میں دن ہوتا ہے تو امریکہ کے بعض علاقوں میں اُس وقت رات ہوتی ہے۔
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Sunan Abi Dawud Hadith 2332 in Urdu