🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. باب في الجنب يصل بالقوم وهو ناس
باب: جنبی بھول کر نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہو جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 234
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ فِي أَوَّلِهِ: فَكَبَّرَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ، انْصَرَفَ، ثُمَّ قَالَ: كَمَا أَنْتُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ عَوْنٍ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَبَّرَ، ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَوْمِ أَنِ اجْلِسُوا، فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ حَدَّثَنَاه مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَبَّرَ.
اس طریق سے بھی حماد بن سلمہ نے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس کے شروع میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی، اور آخر میں یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: میں بھی انسان ہی ہوں، میں جنبی تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: جب آپ مصلیٰ پر کھڑے ہو گئے اور ہم آپ کی تکبیر (تحریمہ) کا انتظار کرنے لگے، تو آپ (وہاں سے) یہ فرماتے ہوئے پلٹے کہ تم جیسے ہو اسی حالت میں رہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن عون اور ہشام نے اسے محمد سے، محمد بن سیرین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی، پھر اپنے ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے اور غسل فرمایا۔ اور اسی طرح اسے مالک نے اسماعیل بن ابوحکیم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے (مرسلاً) روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ہم سے ابان نے بیان کیا ہے، ابان یحییٰ سے، اور یحییٰ ربیع بن محمد سے اور ربیع بن محمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 234]
سیدنا حماد بن سلمہ رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا سند سے اس کے ہم معنی بیان کیا۔ اور اس روایت کے شروع میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور آخر میں ہے کہ جب نماز پوری کی تو فرمایا میں محض انسان ہوں اور میں جنابت سے تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسے زہری رحمہ اللہ سے ابوسلمہ رحمہ اللہ نے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا تو کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے اور ہمیں انتظار ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چل دیے اور فرمایا جیسے ہو (ویسے ہی ٹھہرے رہو!)۔ اور اسے ایوب رحمہ اللہ اور ابن عون رحمہ اللہ اور ہشام رحمہ اللہ (تینوں) نے محمد یعنی ابن سیرین رحمہ اللہ سے (مرسل طور پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، پھر اپنے ہاتھ سے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا بیٹھ جاؤ۔ اور خود چلے گئے اور غسل کیا۔ اور اسی طرح مالک رحمہ اللہ نے اسماعیل بن ابی حکیم رحمہ اللہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت کیا اور یہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز میں تکبیر کہی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں اور ایسے ہی مسلم بن ابراہیم رحمہ اللہ نے ہمیں اپنی سند سے بیان کیا کہ ہم سے ابان رحمہ اللہ نے بیان کیا، وہ یحییٰ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، وہ ربیع بن محمد رحمہ اللہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18634،11665) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: یہ حدیث پچھلی حدیث ۲۳۲ کا تسلسل ہے یعنی وہ بھی ساتھ پڑھیں۔ جسے مسجد میں جنابت لاحق ہو جائے اس کے لیے ضروری نہیں کہ تیمم کر کے باہر نکلے جیسے کہ بعض کا خیال ہے۔ اقامت اور تکبیر میں کسی معقول سبب سے فاصلہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں دوبارہ اقامت کہنے کی ضرورت نہیں۔ مقتدیوں کو چاہیے کہ اپنے مقرر امام کا انتظار کریں، اگر کھڑے بھی رہیں تو جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وانظر الحديث السابق (233)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الربيع بن محمدمجهول
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← الربيع بن محمد
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو
Newمسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← أبان بن يزيد العطار
ثقة مأمون
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← مسلم بن إبراهيم الفراهيدي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة متقن
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 234 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 234
فوائد و مسائل:
➊ یہ واقعہ دو طرح سے روایت ہوا ہے۔ پہلا حدیث ابوبکرہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں داخل ہوئے اور تکبیر کہی، جیسے کہ امام ابوداود رحمہ اللہ نے چند شواہد پیش کیے ہیں۔ دوسرا روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ آپ نے تکبیر کہنے سے پہلے ہی اشارہ فرمایا: ان دونوں میں تطبیق ممکن ہے کہ «دخل فى صلاة» یا «كبر فى صلاة» کا معنی ارادہ فعل ہے یعنی «اراد ان يدخل فى صلاة» یا «اراد ان يكبر فى صلاة» مراد ہے۔ قاضی عیاض اور قرطبی نے ان روایات کے پیش نظر دو واقعات کا احتمال پیش کیا ہے جب کہ بخاری و مسلم میں حدیث ابوہریرہ منقول ہے۔ [صحيح بخاري حديث: 275۔ صحيح مسلم حديث: 605]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 234]

Sunan Abi Dawud Hadith 234 in Urdu