سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: روزے کی حالت میں سینگی (پچھنا) لگوانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2375
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ:" مَا كُنَّا نَدَعُ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ إِلَّا كَرَاهِيَةَ الْجَهْدِ".
ثابت کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی (پچھنا) نہیں لگانے دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2375]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ”ہم روزے دار کو سینگی اس لیے نہیں لگوانے دیتے تھے کہ کہیں اسے مشقت نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 426)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 32 (1940) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (1940) من حديث ثابت به بغير ھذا اللفظ
رواه البخاري (1940) من حديث ثابت به بغير ھذا اللفظ
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2375 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2375
فوائد ومسائل:
یعنی سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، صرف اندیشہ ہوتا ہے کہ ضعف کی بنا پر اسے پریشانی ہو گی۔
لہذا کمزوری کا اندیشہ نہ ہو تو جائز ہے۔
یعنی سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، صرف اندیشہ ہوتا ہے کہ ضعف کی بنا پر اسے پریشانی ہو گی۔
لہذا کمزوری کا اندیشہ نہ ہو تو جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2375]
Sunan Abi Dawud Hadith 2375 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري