🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب في الصائم يحتلم نهارا في [ شهر ] رمضان
باب: رمضان میں روزہ دار کو دن میں احتلام ہو جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2376
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلَا مَنِ احْتَلَمَ وَلَا مَنِ احْتَجَمَ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15701) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے ایک راوی رجل مبہم ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من أصحاب زيد بن أسلم لم أعرفه
وللحديث شواھد ضعيفة عند الدارقطني (183/1) والبزار (1016،1017) وغيرھما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← اسم مبهم
0
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2376
لا يفطر من قاء ولا من احتلم ولا من احتجم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2376 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2376
فوائد ومسائل:
یہ روایت معنی صحیح ہے، یعنی صحیح روایات سے اس میں بیان کردہ باتیں ثابت ہیں۔
تاہم قصدا قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر بغیر قصد کے قے آ جائے تو روزہ ٹوٹتا، اسی طرح جاگتے ہوئے منی کا انزال ہو جائے خواہ مشت زنی سے ہو یا بیوی سے جماع کرنے سے یا اس سے لپٹنے یا بوسلہ لینے کی وجہ سے تو بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2376]