سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب فيمن اختار الصيام
باب: سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
حدیث نمبر: 2411
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ فِي السَّفَرِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حالت سفر میں رمضان جسے پا لے …“، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4561) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2410 ] 1245[)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2410 ] 1245[)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2411 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2411
فوائد ومسائل:
مذکورہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔
قرآن مجید میں صراحت ہے کہ سفر کے دوران میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے، بعد میں قضا دے۔
مذکورہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔
قرآن مجید میں صراحت ہے کہ سفر کے دوران میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے، بعد میں قضا دے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2411]
سنان بن سلمة الهذلي ← سلمة بن المحبق الهذلي