سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب قدر مسيرة ما يفطر فيه
باب: کتنی دور کے سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 2414
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ" يَخْرُجُ إِلَى الْغَابَةِ فَلَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْصِرُ".
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما غابہ ۱؎ جاتے تو نہ تو روزہ توڑتے، اور نہ ہی نماز قصر کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2414]
جناب نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ غابہ کی طرف تشریف لے جاتے تو اس سفر میں ”نہ افطار کرتے اور نہ قصر۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:؟؟؟) (صحیح موقوف)»
وضاحت: ۱؎: غابہ ایک جگہ ہے جو مدینہ سے تھوڑی دور کے فاصلہ پر شام کے راستے میں پڑتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2414 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2414
فوائد ومسائل:
(غابة) مدینے سے شام کی طرف بالائی جانب ایک جگہ کا نام ہے جو تقریبا ایک برید (چار فرسخ/تقریبا 22 کلو میٹر) دور ہے۔
اتنی مسافت پر قصر جائز ہے اور افطار بھی جائز ہے، لیکن اگر کوئی شخص قصر کرتا ہے نہ افطار، تو یہ بھی جائز ہے۔
کیونکہ قصر و افطار فرض نہیں ہے، بلکہ ایک رخصت ہے، جس سے فائدہ اٹھانا افضل ہے، لیکن فرض وواجب بہرحال نہیں ہے۔
(غابة) مدینے سے شام کی طرف بالائی جانب ایک جگہ کا نام ہے جو تقریبا ایک برید (چار فرسخ/تقریبا 22 کلو میٹر) دور ہے۔
اتنی مسافت پر قصر جائز ہے اور افطار بھی جائز ہے، لیکن اگر کوئی شخص قصر کرتا ہے نہ افطار، تو یہ بھی جائز ہے۔
کیونکہ قصر و افطار فرض نہیں ہے، بلکہ ایک رخصت ہے، جس سے فائدہ اٹھانا افضل ہے، لیکن فرض وواجب بہرحال نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2414]
Sunan Abi Dawud Hadith 2414 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي