🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب الرخصة في ذلك
باب: سنیچر کا روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2423
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذُكِرَ لَهُ أَنَّهُ نُهِيَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ، يَقُولُ ابْنُ شِهَابٍ: هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ".
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ان کے سامنے جب سنیچر (ہفتے) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2423]
امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کے متعلق آتا ہے کہ ان سے جب یہ ذکر کیا جاتا کہ ہفتے کے دن کا روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے تو وہ کہتے: یہ «حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ» حدیث حمصی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (2421)، (تحفة الأشراف: 15910) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس جملہ سے حدیث نمبر (۲۴۲۱) کی تضعیف مقصود ہے لیکن،صحیح حدیث کی تضعیف کا یہ انداز بڑا عجیب و غریب ہے، بالخصوص امام زہری جیسے جلیل القدر امام سے، ائمۃ حدیث نے حدیث کی تصحیح فرمائی ہے (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ۷؍ ۱۷۹)
قال الشيخ الألباني: مقطوع مرفوض
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكرالفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الملك بن شعيب الفهمي، أبو عبد الله
Newعبد الملك بن شعيب الفهمي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2423 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2423
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا (حدیث:2421) عبداللہ بن بسر کی سند میں ثور بن یزید اور خالد بن معداد اہل حمص سے ہیں۔
اور اس جملے میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ ہے، مگر علامہ البانی رحمة اللہ علیہ کی تحقیق قابل داد ہے، ارواء الغلیل (ج3،ص:124، حدیث:960) میں فرماتے ہیں: اس حدیث کی تین سندیں ہیں اور تینوں صحیح ہیں۔
ان کی روشنی میں اس پر یہ طعن اسراف ہے۔
ایسے ہی امام مالک کا (درج ذیل) قول کہ یہ جھوٹ ہے بعید از صواب ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2423]

Sunan Abi Dawud Hadith 2423 in Urdu