Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب في السرية تخفق
باب: مال غنیمت کے بغیر واپس ہونے والے لشکر کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2497
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجاہدین کی کوئی جماعت ایسی نہیں جو اللہ کی راہ میں لڑتی ہو پھر مال غنیمت حاصل کرتی ہو، مگر آخرت کا دو تہائی ثواب اسے پہلے ہی دنیا میں حاصل ہو جاتا ہے، اور ایک تہائی (آخرت کے لیے) باقی رہتا ہے، اور اگر اسے مال غنیمت نہیں ملا تو آخرت میں ان کے لیے مکمل ثواب ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 44 (1906)، سنن النسائی/الجھاد 15 (3127)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 13 (2785)، (تحفة الأشراف: 8847)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/169) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1906)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد المعافري، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥حميد بن هانئ الخولاني، أبو هانئ
Newحميد بن هانئ الخولاني ← عبد الله بن يزيد المعافري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن لهيعة الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن لهيعة الحضرمي ← حميد بن هانئ الخولاني
ضعيف الحديث
👤←👥حيوة بن شريح التجيبي، أبو زرعة
Newحيوة بن شريح التجيبي ← عبد الله بن لهيعة الحضرمي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن يزيد العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد العدوي ← حيوة بن شريح التجيبي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمر الجشمي، أبو سعيد
Newعبيد الله بن عمر الجشمي ← عبد الله بن يزيد العدوي
ثقة ثبت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2497 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2497
فوائد ومسائل:
انسان جس قدر بھی نعمتیں اس دنیا میں استعمال کر رہا ہے۔
وہ اپنے آخرت کے حصے سے استعمال کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس قدر جو دنیا دی گئی ہے۔
تو ہمیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ اس دنیا میں تو نہیں دے دیا گیا۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1275) حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم میں سے کچھ کے پھل یہیں پک گئے ہیں۔
اور وہ اب ان سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1276) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لذید مطعومات ومشروبات کا ستعمال ترک کر دیا تھا۔
اور آخرت میں کفار سے بالخصوص کہا جائے گا۔
(أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ ﴿٢٠﴾ (الاحقاف۔
20)  تم دنیا کی زندگی میں اپنی لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائےگا۔
یہ اس کی سزا ہے کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے ااور بدکردار تھے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2497]