🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب فِي نُزُولِ الْمَنَازِلِ
باب: منزل پر اترنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا نَزَلْنَا مَنْزِلًا لَا نُسَبِّحُ حَتَّى نَحُلَّ الرِّحَالُ.
حمزہ ضبی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم کسی جگہ اترتے تو نماز نہ پڑھتے جب تک کہ ہم کجاؤں کو اونٹوں سے نیچے نہ اتار دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2551]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”ہم جب کسی منزل پر اترتے تو اس وقت تک نماز نہ پڑھتے تھے، جب تک کہ اونٹوں پر سے کجاوے نہ اتار لیتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 557) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3917)

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
14801

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حمزة بن عمرو العائذي، أبو عمر
Newحمزة بن عمرو العائذي ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← حمزة بن عمرو العائذي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2551 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2551
فوائد ومسائل:
جس طرح انسان کو آرام اور راحت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی طرح حیوانات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
اسی لئے بعض علماء یہ مستحب سمجھتے ہیں۔
کہ انسان جب کسی منزل پر اترے تو چاہیے کہ پہلے اپنے جانور کو چارہ ڈالے، پھر خود کھانا کھائے۔
یہ تعلیمات اسلام کے دین فطرت اورعالمی دین ہونے کی دلیل ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2551]

Sunan Abi Dawud Hadith 2551 in Urdu