سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب إِكْرَامِ الْخَيْلِ وَارْتِبَاطِهَا وَالْمَسْحِ عَلَى أَكْفَالِهَا
باب: گھوڑوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے اور ان کے پٹھوں پر ہاتھ پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2553
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا، أَوْ قَالَ أَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا، وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ".
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہیں (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی) صحبت حاصل تھی - وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کو سرحد کی حفاظت کے لیے تیار کرو، اور ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو، اور ان کی گردنوں میں قلادہ (پٹہ) پہناؤ، اور انہیں (نظر بد سے بچنے کے لیے) تانت کا قلادہ نہ پہنانا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2553]
صحابی رسول سیدنا ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کو باندھ کر رکھو (ان کی خوب دیکھ بھال کرو) ان کی پیشانیوں اور سرینوں پر ہاتھ پھیرا کرو۔“ راوی کو شک ہے کہ آپ نے لفظ «أَعْجَازِهَا» کہا یا «أَكْفَالِهَا» ”اور گردنوں میں رسیاں باندھو مگر تانت کی رسی نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم (2543)، (تحفة الأشراف: 15520) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: گھوڑے کو تیار کرنے سے یہ کنایہ ہے کہ ان کو جہاد کے لئے فربہ کرنا، اور ہاتھ پھیرنے سے مقصود ان کے جسم کو گردوغبار سے صاف کرنا اور ان کی فربہی معلوم کرنا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں گھوڑے کی گردنوں میں کمان کے چلے باندھتے تھے تاکہ نظر بد نہ لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کے لئے اس سے منع فرمایا کہ اس سے گھوڑے کا گلا نہ گھٹ جائے، نیز یہ عمل تقدیر کو رد نہیں کر سکتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديثين السابقين (2543،2544)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
إسناده ضعيف
انظر الحديثين السابقين (2543،2544)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2553
| ارتبطوا الخيل وامسحوا بنواصيها وأعجازها قلدوها ولا تقلدوها الأوتار |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2553 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2553
فوائد ومسائل:
گھوڑا محبت کرنے والا جانور ہے۔
اور جہاد میں کام آنے کی وجہ سے محبوب ہے۔
اس لئے اس کی خوب خدمت کرنی چاہیے۔
اور انس ومحبت کا اظہار کرنا چاہیے۔
اس عمل سے جانور خوش ہوتا ہے۔
گھوڑا محبت کرنے والا جانور ہے۔
اور جہاد میں کام آنے کی وجہ سے محبوب ہے۔
اس لئے اس کی خوب خدمت کرنی چاہیے۔
اور انس ومحبت کا اظہار کرنا چاہیے۔
اس عمل سے جانور خوش ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2553]
Sunan Abi Dawud Hadith 2553 in Urdu
عقيل بن سعيد ← أبو وهب الجشمي