🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. باب في النهى أن يتعاطى السيف مسلولا
باب: ننگی تلوار دینے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2588
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار (کسی کو) تھمانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2588]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ تلوار کو اس کیفیت میں لیا دیا (لینا دینا) جائے کہ وہ ننگی ہو (میان میں نہ ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفتن 5 (2163)، (تحفة الأشراف: 2690)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/300، 361) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اسی طرح کوئی بھی ایسا ہتھیار لے کر راستہ میں یا مجمع میں چلنا جس سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2163)
أبو الزبير مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← محمد بن مسلم القرشي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2163
نهى رسول الله أن يتعاطى السيف مسلولا
سنن أبي داود
2588
نهى أن يتعاطى السيف مسلولا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2588 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2588
فوائد ومسائل:
کیونکہ اس طرح اندیشہ رہتا ہے کہ کسی کو لگ سکتی ہے یا چبھ سکتی ہے۔
اس لئے احتیاط ضروری ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2588]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2163
ننگی تلوار لینے کی ممانعت کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار لینے اور دینے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2163]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ننگی تلوار سے بسا اوقات خود صاحب تلوار بھی زخمی ہوسکتا ہے،
اور دوسروں کو اس سے تکلیف پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2163]

Sunan Abi Dawud Hadith 2588 in Urdu