🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب في الرجل ينادي بالشعار
باب: شعار (کوڈ) کو پکار کر کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2595
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: كَانَ شِعَارُ الْمُهَاجِرِينَ عَبْدَ اللَّهِ، وَشِعَارُ الأَنْصَارِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مہاجرین کا شعار (کوڈ) ۱؎ عبداللہ اور انصار کا شعار عبدالرحمٰن تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4601) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت ’’عنعنہ“ سے ہے) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وہ خاص لفظ جس سے پہرے دار یا فوجی کو آپس میں ایک دوسرے کی شناخت کے لئے بتا دیا جاتا ہے کہ دوران جنگ اسے دھوکہ نہ دیا جا سکے، اسے پردل کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة ضعيف،مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة
Newالحجاج بن أرطاة النخعي ← قتادة بن دعامة السدوسي
صدوق كثير الخطأ والتدليس
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← الحجاج بن أرطاة النخعي
ثقة متقن
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2595 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2595
فوائد ومسائل:
اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اندھیرے میں یا ذاتی تعارف نہ ہونے کی صورت میں اپنے افراد کو پہچاننے میں غلطی نہیں ہوتی۔
اگر کوئی جاسوس وغیرہ در آئے تو اس کو پکڑنا بھی آسان رہتا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2595]