سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. باب في التولي يوم الزحف
باب: میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2646
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَزَلَتْ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ سورة الأنفال آية 65، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حِينَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ تَخْفِيفٌ فَقَالَ: الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ سورة الأنفال آية 66، قَرَأَ أَبُو تَوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ سورة الأنفال آية 66، قَالَ: فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْهُمْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» ”اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے“ (سورۃ الانفال: ۶۵) نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ فرض کر دیا کہ ان میں کا ایک آدمی دس کافروں کے مقابلہ میں نہ بھاگے، تو یہ چیز ان پر شاق گزری، پھر تخفیف ہوئی اور اللہ نے فرمایا: «الآن خفف الله عنكم» ”اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے تو اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے“ (سورۃ الانفال: ۶۶)۔ ابوتوبہ نے پوری آیت «يغلبوا مائتين» تک پڑھ کر سنایا اور کہا: جب اللہ نے ان سے تعداد میں تخفیف کر دی تو اس تخفیف کی مقدار میں صبر میں بھی کمی کر دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2646]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ ﴿إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ﴾ [سورة الأنفال: 65] ”اگر تم میں بیس ہوئے صبر کرنے والے تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں کو یہ امر بڑا بھاری محسوس ہوا کہ اللہ نے فرض کر دیا ہے کہ ایک آدمی دس کے مقابلے سے نہ بھاگے۔ پھر (یہ) تخفیف نازل ہوئی ﴿الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ﴾ [سورة الأنفال: 66] ”اب اللہ نے تم سے تخفیف کر دی اور اس نے جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری ہے، سو اگر تم میں سو افراد ہوئے صابر و ثابت قدم تو وہ دو سو پر غالب ہوں گے۔“ ابوتوبہ ربیع (راوی حدیث) نے یہ آیت کریمہ «يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ» تک پڑھی۔ انہوں نے کہا: ”جب اللہ تعالیٰ نے گنتی میں تخفیف فرما دی تو اس اعتبار سے صبر میں بھی کمی کر دی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التفسیر 7 (4653)، (تحفة الأشراف: 6088) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4653)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2646 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2646
فوائد ومسائل:
اگر دشمن کی تعداد مسلمانوں سے دگنی ہو تو گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ جم کر مقابلہ کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کی خاص مد د شامل حال ہوگی۔
اگر دشمن کی تعداد مسلمانوں سے دگنی ہو تو گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ جم کر مقابلہ کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کی خاص مد د شامل حال ہوگی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2646]
Sunan Abi Dawud Hadith 2646 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي