سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. باب في النهى عن النهبى، إذا كان في الطعام قلة في أرض العدو
باب: دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو غلہ لوٹ کر اپنے لیے رکھنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2705
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ النَّاسَ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ وَأَصَابُوا غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي، إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي عَلَى قَوْسِهِ فَأَكْفَأَ قُدُورَنَا بِقَوْسِهِ ثُمَّ جَعَلَ يُرَمِّلُ اللَّحْمَ بِالتُّرَابِ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ النُّهْبَةَ لَيْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ الْمَيْتَةِ أَوْ إِنَّ الْمَيْتَةَ لَيْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ النُّهْبَةِ"، الشَّكُّ مِنْ هَنَّادٍ.
ایک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، لوگوں کو اس سفر میں بڑی احتیاج اور سخت پریشانی ہوئی پھر انہیں کچھ بکریاں ملیں، تو لوگوں نے انہیں لوٹ لیا، ہماری ہانڈیاں ابل رہی تھیں، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے، پھر آپ نے اپنے کمان سے ہماری ہانڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے، اور فرمایا: ”لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں“، یا فرمایا: ”مردار لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں“، یہ شک ہناد راوی کی جانب سے ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2705]
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ لوگوں کو انتہائی احتیاج اور بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں بکریاں مل گئیں جو انہوں نے لوٹ لیں (اور تقسیم نہ کیں) ہمارے دیگچے ابل رہے تھے (گوشت پک رہا تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوس کے سہارے چلتے ہوئے تشریف لائے اور ہمارے دیگچوں کو اپنی قوس سے الٹ دیا اور گوشت کو مٹی میں لتھیڑنے لگے اور فرمایا: ”لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں۔“ یا یوں فرمایا: ”مردار کا گوشت لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں۔“ یہ شک ہناد کو ہوا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15662) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ بکریاں غلے یا تیار کھانے کی چیزوں کی قبیل سے نہیں ہیں اس لئے ان کی لوٹ سے منع کیا گیا، جائز صرف غلہ یا تیار کھانے کی اشیاء میں سے بقدر ضرورت لینا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2705
| الميتة ليست بأحل من النهبة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2705 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2705
فوائد ومسائل:
بلا ضرورت شرعی مشترکہ غنیمت میں سے کچھ لینا ناجائز ہے۔
ہاں اگر جہادی ضرورت کے پیش نظر اشد ضرورت ہو تو لے سکتا ہے۔
امیر سے اجازت لے اور اس کی کما حقہ حفاظت کرے۔
اور ضرورت پوری ہونے پر بروقت واپس کر دے۔
ضائع کر کے واپس دینا جرم ہے۔
اور ملی امانتوں کا یہی حکم ہے۔
بلا ضرورت شرعی مشترکہ غنیمت میں سے کچھ لینا ناجائز ہے۔
ہاں اگر جہادی ضرورت کے پیش نظر اشد ضرورت ہو تو لے سکتا ہے۔
امیر سے اجازت لے اور اس کی کما حقہ حفاظت کرے۔
اور ضرورت پوری ہونے پر بروقت واپس کر دے۔
ضائع کر کے واپس دینا جرم ہے۔
اور ملی امانتوں کا یہی حکم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2705]
Sunan Abi Dawud Hadith 2705 in Urdu
كليب بن شهاب الجرمي ← اسم مبهم