سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
141. باب فِي الرَّجُلِ يَنْتَفِعُ مِنَ الْغَنِيمَةِ بِالشَّىْءِ
باب: مال غنیمت میں سے کسی چیز کو اپنے کام میں لانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2708
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ المعنى، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ".
رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت کے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ اسے جب دبلا کر ڈالے تو مال غنیمت میں واپس لوٹا دے، اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کر دے تو اسے غنیمت کے مال میں واپس کر دے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2708]
سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کا اللہ اور قیامت پر ایمان ہے، اسے روا نہیں کہ مسلمانوں کی غنیمت میں سے کسی جانور پر سواری کرتا رہے حتیٰ کہ جب اسے لاغر کر ڈالے تو اسے غنیمت میں واپس کر دے، اور جس کا اللہ اور قیامت پر ایمان ہے اسے جائز نہیں کہ مسلمانوں کی غنیمت میں سے کپڑا پہنے اور جب اسے بوسیدہ کر دے تو وہ اسے اس میں واپس کر دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2158)، (تحفة الأشراف: 3615) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حاصل یہ ہے کہ غنیمت کے مال میں کھانے کی چیزوں کے علاوہ کسی چیز کا استعمال بلا ضرورت درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
تقدم طرفه (2158، 2159) محمد بن إسحاق بن يسار صرح بالسماع عند أحمد وأبي داود وغيرھما
تقدم طرفه (2158، 2159) محمد بن إسحاق بن يسار صرح بالسماع عند أحمد وأبي داود وغيرھما
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2708
| من كان يؤمن بالله وباليوم الآخر فلا يركب دابة من فيء المسلمين حتى إذا أعجفها ردها فيه من كان يؤمن بالله وباليوم الآخر فلا يلبس ثوبا من فيء المسلمين حتى إذا أخلقه رده فيه |
بلوغ المرام |
1116
| من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يركب دابة من فيء المسلمين حتى إذا أعجفها ردها فيه ولا يلبس ثوبا من فيء المسلمين حتى إذا أخلقه رده فيه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2708 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2708
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ نے مقررہ حقوق والی چیزوں میں بقدر حق لینا۔
اور عام جائز چیزوں میں ایک دوسرے کا لحاظ کرنے اور ہمدردی برتنے کا حکم دیا ہے۔
جبکہ لوٹ اور چھینا جھپٹی میں استحقاق کی بجائے زور بازو س کام لیا جاتا ہے۔
اور کسی کو زیادہ اور کسی کو کم ملتا ہے۔
اور کئی محروم رہ جاتے ہیں۔
اس لئے یہ طرز عمل جائز نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مقررہ حقوق والی چیزوں میں بقدر حق لینا۔
اور عام جائز چیزوں میں ایک دوسرے کا لحاظ کرنے اور ہمدردی برتنے کا حکم دیا ہے۔
جبکہ لوٹ اور چھینا جھپٹی میں استحقاق کی بجائے زور بازو س کام لیا جاتا ہے۔
اور کسی کو زیادہ اور کسی کو کم ملتا ہے۔
اور کئی محروم رہ جاتے ہیں۔
اس لئے یہ طرز عمل جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2708]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1116
(جہاد کے متعلق احادیث)
سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کوئی اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے تو وہ مسلمانوں کے مال غنیمت کے گھوڑے پر سوار نہ ہو حتیٰ کہ جب وہ کمزور ہو جائے تو اسے واپس کر دے اور مسلمانوں کے مال غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے حتیٰ کہ جب وہ بوسیدہ و پرانا ہو جائے تو اسے واپس بیت المال میں جمع کرا دے۔“ اسے ابوداؤد اور دارمی نے روایت کیا ہے اور اس کے سب راوی ایسے ہیں جن میں کوئی حرج نہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1116»
سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کوئی اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے تو وہ مسلمانوں کے مال غنیمت کے گھوڑے پر سوار نہ ہو حتیٰ کہ جب وہ کمزور ہو جائے تو اسے واپس کر دے اور مسلمانوں کے مال غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے حتیٰ کہ جب وہ بوسیدہ و پرانا ہو جائے تو اسے واپس بیت المال میں جمع کرا دے۔“ اسے ابوداؤد اور دارمی نے روایت کیا ہے اور اس کے سب راوی ایسے ہیں جن میں کوئی حرج نہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1116»
تخریج:
« «إسناد حسن» أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في الرجل ينتفع من الغنيمة بشيء، حديث:2708، والدارمي:2 /230.» تشریح:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غنیمت میں حاصل شدہ کپڑوں اور سواریوں کو میدان جنگ میں ضرورت کے وقت استعمال میں لایا جا سکتا ہے لیکن اس بات کی ممانعت ہے کہ سواری سے اس طرح فائدہ اٹھایا جائے کہ وہ کمزور اور لاغر ہو جائے یا کپڑے کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ وہ بوسیدہ اور پرانا ہو جائے‘ اس لیے اگر سواری کو کمزور کیے بغیر اور کپڑے کو بوسیدہ کیے بغیر اپنی ضرورت پوری کر لی جائے تو اس کا جواز ہے۔
(سبل السلام)
« «إسناد حسن» أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في الرجل ينتفع من الغنيمة بشيء، حديث:2708، والدارمي:2 /230.»
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غنیمت میں حاصل شدہ کپڑوں اور سواریوں کو میدان جنگ میں ضرورت کے وقت استعمال میں لایا جا سکتا ہے لیکن اس بات کی ممانعت ہے کہ سواری سے اس طرح فائدہ اٹھایا جائے کہ وہ کمزور اور لاغر ہو جائے یا کپڑے کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ وہ بوسیدہ اور پرانا ہو جائے‘ اس لیے اگر سواری کو کمزور کیے بغیر اور کپڑے کو بوسیدہ کیے بغیر اپنی ضرورت پوری کر لی جائے تو اس کا جواز ہے۔
(سبل السلام)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1116]
Sunan Abi Dawud Hadith 2708 in Urdu
حنش الصنعاني ← رويفع بن ثابت الأنصاري