سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
109. باب في المرأة تستحاض ومن قال تدع الصلاة في عدة الأيام التي كانت تحيض
باب: عورت کے مستحاضہ ہونے کا بیان اور ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ مستحاضہ اپنے حیض کے ایام کے بقدر نماز چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 275
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَلْتَغْتَسِلْ، بِمَعْنَاهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت کو (استحاضہ کا) خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ: ”پھر جب یہ ایام گزر جائیں اور نماز کا وقت آ جائے تو غسل کرے ....“ الخ۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18158) (صحیح)» (گزری ہوئی حدیثِ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، اس کی سند میں واقع راوی کا مبہم ہونا مضر نہیں ہے، کیوں کہ خود سلیمان، ام سلمہ سے براہ راست بھی روایت کرتے ہیں، نیز ممکن ہے یہ رجل مبہم انصاری صحابی ہوں جن کا تذکرہ بعد والی حدیث میں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من الأنصار مجهول،وسقط ذكره في السند السابق (274)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 23
إسناده ضعيف
رجل من الأنصار مجهول،وسقط ذكره في السند السابق (274)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 23
الرواة الحديث:
اسم مبهم ← أم سلمة زوج النبي