سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
166. باب في الرسل
باب: ایلچی اور سفیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2761
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: كَانَ مُسَيْلِمَةُ كَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ: سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ نُعَيْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُمَا حِينَ قَرَأَ كِتَابَ مُسَيْلِمَةَ:" مَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا؟ قَالَا: نَقُولُ كَمَا قَالَ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا".
نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے مسیلمہ کا خط پڑھا اس کے دونوں ایلچیوں سے کہتے سنا: ”تم دونوں مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ ان دونوں نے کہا: ”ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ ۱؎ نے کہا ہے“، (یعنی اس کی تصدیق کرتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کئے جائیں تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2761]
محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ مسیلمہ (کذاب) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خط بھیجا۔ (دوسری سند میں ہے) نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کے دو ایلچیوں سے پوچھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کذاب کا) خط پڑھا کہ ”تم دونوں (اس کے بارے میں) کیا کہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم وہی کہتے ہیں جو اس نے کہا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سفیر اور قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔““ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/487) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسیلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نبوت کا دعوی کیا تھا، عبداللہ بن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کا پیام لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے، اسی موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ اگر یہ نہ ہوتا کہ قاصد قتل نہ کئے جائیں، تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایک لشکر مسیلمہ سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا گیا بالآخر وحشی کے ہاتھوں مسیلمہ مارا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3982)
مشكوة المصابيح (3982)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2761
| لولا أن الرسل لا تقتل لضربت أعناقكما |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2761 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2761
فوائد ومسائل:
سفیر یا قاصد امام المسلمین کے سامنے بھی کفر کا اظہار کرے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
سفیر یا قاصد امام المسلمین کے سامنے بھی کفر کا اظہار کرے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2761]
Sunan Abi Dawud Hadith 2761 in Urdu
سلمة بن نعيم الأشجعي ← نعيم بن مسعود الأشجعي