🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب في المسافر يضحي
باب: مسافر کے قربانی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2816
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَنَا لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ"، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر میں) قربانی کی اور کہا: ثوبان! اس بکری کا گوشت ہمارے لیے درست کرو (بناؤ)، ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں برابر وہی گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ ہم مدینہ آ گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2816]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی پھر فرمایا: اے ثوبان! ہمارے لیے اس بکری کا گوشت بناؤ۔ وہ کہتے ہیں: پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے کھلاتا رہا حتیٰ کہ ہم مدینہ آ گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصید 25 (5513)، صحیح مسلم/الصید12(1956)، سنن النسائی/الضحایا 40 (4444)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 10 (3186)، (تحفة الأشراف: 1630)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/117، 171، 191) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1975)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥جبير بن نفير الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجبير بن نفير الحضرمي ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة
👤←👥حدير بن كريب الحضرمي، أبو الزاهرية
Newحدير بن كريب الحضرمي ← جبير بن نفير الحضرمي
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← حدير بن كريب الحضرمي
صدوق له أوهام
👤←👥حماد بن خالد الخياط، أبو عبد الله
Newحماد بن خالد الخياط ← معاوية بن صالح الحضرمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد القضاعي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد القضاعي ← حماد بن خالد الخياط
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5513
نهى أن تصبر البهائم
صحيح مسلم
5057
نهى أن تصبر البهائم
سنن أبي داود
2816
نهى رسول الله أن تصبر البهائم
سنن النسائى الصغرى
4444
نهى أن تصبر البهائم
سنن ابن ماجه
3186
نهى رسول الله عن صبر البهائم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2816 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2816
فوائد ومسائل:
یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کرنے کےلئے سفر کوئی عذر نہیں ہے۔
اور مقیم ہونا کوئی شرط نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2816]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4444
«مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم (حکم بن ایوب) کے یہاں گیا تو دیکھا کہ چند لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر مار رہے ہیں، تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر اس طرح مارا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4444]
اردو حاشہ:
(1) معلوم ہوا کسی بھی جاندار کو (جیسا کہ حدیث: 4446 وغیرہ میں آ رہا ہے) خواہ وہ انسان ہو، یا حیوان اور پرندہ یا درندہ وغیرہ اس کو بلا وجہ عذاب اور تکلیف دینا حرام ہے۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری ہے۔ اس میں کسی ملامت گر کی ملامت یا کسی صاحب اقتدار و اختیار شخص کا خوف نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا۔ انہوں نے حجاج بن یوسف کے چچیرے بھائی، اس کے نائب اور حاکم بصرہ حکم بن ایوب جیسے ظالم اور سفاک حکمران کے سامنے یہ فریضہ، کما حقہٗ ادا فرمایا۔ حکم بن ایوب کے متعلق معروف ہے کہ وہ بھی ظلم و جور میں اپنے چچا زاد حجاج بن یوسف کی طرح تھا۔ و اللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4444]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3186
جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے اور مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر نشانہ لگانے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3186]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جانوروں کو بلاوجہ ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے جو ایک مسلمان کی رحم دلی کے منافی ہے۔

(2)
ذبح کرنے کے بجائے قتل کرنے سے جانور مردار میں شامل ہوجاتا ہے جو غذا کو ضائع کرنے کا ایک برا طریقہ ہے۔
اور غذا کو ضائع کرنا گناہ ہے۔

(3)
تیر اندازی کی مشق کے نتیجے میں اس جانور کی کھال بھی ناقابل استعمال ہوجاتی ہے۔
یہ بھی مال کو ضائع کرنا ہے، جو بہت بڑا گناہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3186]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5513
5513. ہشام بن زید سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں سیدنا انس ؓ کے ہمراہ حکم بن ایوب کے پاس گیا تو وہاں چند لڑکوں کو دیکھا جو مرغی کو باندھ کر نشانہ بازی کر رہے تھے۔ سیدنا انس ؓ نے یہ منظر دیکھ کر کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5513]
حدیث حاشیہ:
زندہ جانور کو باندھ کر ہلاک کرنا مال کو ضائع کرنا اور حیوان کو تکلیف دینا ہے جس کی شرعاً اجازت نہیں، اسی طرح ہلاک شدہ حیوان کا گوشت حرام ہے کیونکہ جس جانور کو ذبح کیا جا سکتا ہے اسے ذبح شرعی کے بغیر مارنا حرام ہے، لیکن شکار کے موقع پر اگر بسم اللہ پڑھ کر تیر مارا جائے اور جانور مر جائے تو بھی اس کا کھانا جائز ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5513]

Sunan Abi Dawud Hadith 2816 in Urdu