سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب نَسْخِ مِيرَاثِ الْعَقْدِ بِمِيرَاثِ الرَّحِمِ
باب: رشتے کی میراث سے حلف و اقرار سے حاصل ہونے والی میراث کی منسوخی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2924
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا سورة الأنفال آية 74 وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا سورة الأنفال آية 72، فَكَانَ الأَعْرَابِيُّ لَا يَرِثُ الْمُهَاجِرَ، وَلَا يَرِثُهُ الْمُهَاجِرُ فَنَسَخَتْهَا فَقَالَ: وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ سورة الأنفال آية 75.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا تھا: «والذين، آمنوا وهاجروا»، «والذين آمنوا ولم يهاجروا» ”جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی تو وہ ان کے وارث نہیں ہوں گے“ (سورۃ الانفال: ۷۲) تو اعرابی ۱؎ مہاجر کا وارث نہ ہوتا اور نہ مہاجر اس کا وارث ہوتا اس کے بعد «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» ”اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں“ (سورۃ الانفال: ۷۵) والی آیت سے یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2924]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے آیتِ کریمہ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا﴾ [سورة الأنفال: 72] اور ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا﴾ [سورة الأنفال: 72] کی تفسیر میں فرمایا کہ ”دیہاتی (مسلمان جس نے ہجرت نہ کی ہوتی) مہاجر کا وارث نہ بنتا تھا۔ پھر اس حکم کو آیتِ کریمہ: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ﴾ [سورة الأنفال: 75] نے منسوخ کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6262) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 2924 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي