🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في الحلف
باب: قول و قرار پر قسمیں کھانے اور حلف اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2925
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وأبو أسامة، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (زمانہ کفر کی) کوئی بھی قسم اور عہد و پیمان کا اسلام میں کچھ اعتبار نہیں، اور جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں (بھلے کام کے لیے) تھا تو اسلام نے اسے مزید مضبوطی بخشی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2925]
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں کوئی (نیا) حلف نہیں ہے اور قبل از اسلام (ایام جاہلیت میں) جو عہد و معاہدے ہو چکے، ان کو اسلام نے اور مضبوط کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/فضائل الصحابة 50 (2530)، (تحفة الأشراف: 3184)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/83) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کفار عرب کا دستور تھا کہ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کا ہم حلیف ہوتا، اور ہر ایک دوسرے کا حق و ناحق میں مدد کرتا تھا، سو فرمایا کہ اسلام میں کفر کی قسم اور عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2530)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جبير بن مطعم القرشي، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عديصحابي
👤←👥إبراهيم بن عبد الرحمن الزهري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد الله
Newإبراهيم بن عبد الرحمن الزهري ← جبير بن مطعم القرشي
له رؤية
👤←👥سعد بن إبراهيم القرشي، أبو إسحاق، أبو إبراهيم
Newسعد بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥زكريا بن أبي زائدة الوادعي، أبو يحيى
Newزكريا بن أبي زائدة الوادعي ← سعد بن إبراهيم القرشي
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← زكريا بن أبي زائدة الوادعي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن بشر العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن بشر العبدي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← محمد بن بشر العبدي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6465
لا حلف في الإسلام أيما حلف كان في الجاهلية لم يزده الإسلام إلا شدة
سنن أبي داود
2925
لا حلف في الإسلام أيما حلف كان في الجاهلية لم يزده الإسلام إلا شدة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2925 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2925
فوائد ومسائل:
اسلام نے اپنے معتقدین کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا ہے۔
جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
(إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ) (الحجرات:10) مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
چنانچہ واجب ہے کہ یہ ایک جان اور ایک جسم بن کر رہیں۔
انہیں اب کوئی ضرورت نہیں کہ قبل از اسلام کے انداز میں مصنوعی معاہدے کرتے پھریں۔
بلکہ یہ چیز ان کے عقیدے اور عمل کا بنیادی عنصر ہے۔
بہرحال جو معاہدات اس سے پہلے ہوچکے ہیں۔
اسلام انہیں خیر وصلاح کی بنیاد پر اور مظبوط بناتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2925]

Sunan Abi Dawud Hadith 2925 in Urdu