یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب في الإمام يقبل هدايا المشركين
باب: امام کا کفار و مشرکین سے ہدیہ قبول کرنا۔
حدیث نمبر: 3056
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ أَبِي تَوْبَةَ وَحَدِيثِهِ، قَالَ: عِنْدَ قَوْلِهِ مَا يَقْضِي عَنِّي فَسَكَتَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَمَزْتُهَا.
اس سند سے بھی ابوتوبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ جب میں نے کہا کہ نہ آپ کے پاس اتنا مال ہے اور نہ میرے پاس کہ قرضہ ادا ہو جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو مجھے بڑی گرانی ہوئی (کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات پر توجہ نہیں دی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3056]
محمود بن خالد نے مروان بن محمد سے، انہوں نے معاویہ بن سلام سے روایت کیا اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، اور جہاں یہ آیا ہے کہ «يَقْضِي عَنِّي» ”میں بھاگ جاتا ہوں اور مسلمان قبائل کے پاس چلا جاتا ہوں، حتیٰ کہ اللہ اپنے رسول کو کچھ عنایت فرما دے جس سے میرا قرضہ ادا ہو جائے۔“ (اس روایت میں ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے خاموش ہو رہے اور مجھے اس سے بڑی گرانی ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2040) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3055)
انظر الحديث السابق (3055)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 3056 in Urdu
مروان بن محمد الطاطري ← معاوية بن سلام الحبشي