سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3058
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا بِحَضْرَ مُوتَ.
وائل رضی اللہ عنہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حضر موت ۱؎ میں زمین کا ٹکڑا جاگیر میں دیا ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3058]
سیدنا علقمہ بن وائل اپنے والد (سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرموت کے علاقے میں ایک قطعہ زمین انہیں عطا فرمایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 39 (1381)، (تحفة الأشراف: 11773)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/399)، سنن الدارمی/البیوع 66 (2651) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یمن کا ایک شہر ہے۔
۲؎: حاکم یا حکومت کی طرف سے رعایا کو دی گئی زمین کو جاگیر کہتے ہیں۔
۲؎: حاکم یا حکومت کی طرف سے رعایا کو دی گئی زمین کو جاگیر کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (1381 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (1381 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥وائل بن حجر الحضرمي، أبو هنيد، أبو هنيدة | صحابي | |
👤←👥علقمة بن وائل الحضرمي علقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← علقمة بن وائل الحضرمي | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥عمرو بن مرزوق الباهلي، أبو عثمان عمرو بن مرزوق الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1381
| أقطعه أرضا بحضرموت |
سنن أبي داود |
3058
| أقطعه أرضا بحضر موت |
بلوغ المرام |
782
| اقطعه ارضا بحضرموت |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3058 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3058
فوائد ومسائل:
امام المسلمین یا خلیفہ غیر مملوکہ غیر آباد زمینوں میں سے کوئی قطعہ کسی کو ادا کردے۔
تو اس زمین کوآباد کرنے کا استحقاق اس شخص کو دوسروں سے زیاد ہ ہوگا۔
اس کا یہ بھی مفہوم لیا گیا ہے۔
کہ کوئی قطعہ زمین ایک خاص مدت تک کے لئے کسی کو عطا کردیا جائے۔
کہ وہ اس کی آمدنی حاصل کرسکے۔
امام شافعی کے نزدیک صرف بنجر زمین ہی میں سے کوئی قطعہ کسی کو دیا جاسکتا ہے۔
(فتح الباری۔
کتاب المساقاۃ باب القطایع۔
60/5) یہ ایک طرح سے آباد کار ی کا پروگرام ہے۔
جس میں ان لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
جن کی کوئی خاص خدمات ہوں۔
جس طرح انصار کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کی زمین دینی چاہیے۔
اس پرانصار نے کہا کہ اتنی ہی زمین اگران کے بھائی مہاجرین کو بھی دی جائے۔
تو وہ بحرین کے قطعات قبول کریں گے۔
یہ جذبہ ایثار دیکھ کر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ عرصہ بعد تم یہ دیکھوگے کہ لوگ اپنے آپ کودوسروں پر ترجیح دے رہے ہوں گے تو تم اس پر صبرکرنا یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملو (صحیح بخاری کتاب المساقاۃ۔
باب القطائع۔
حدیث 2376)(اثرۃ)اپنے لئے چننا اور (ایثار)دوسروں کے لئے چننا ہے۔
بعض اوقات کسی مستحق کو کوئی قطعہ زمین عطا کیا جاتا تھا۔
ان کی مذید مثالیں سنن ابو دائود کی آئندہ احادیث میں سامنے آیئں گی۔
یہ بعد کے جاگیرداری نظام سے مختلف ہے۔
جس میں اچھی اورآباد زمین لوگوں کی فرمابنرداریاں خریدنے کےلئے دی جاتی تھیں۔
اورجاگیروں کے ساتھ اس علاقے میں رہنے والے انسانوں کو بھی جاگیردارون کامملوک اور غلام بنادیا جاتا تھا۔
اسلام میں اس غرض سے جاگیریں دینے کا بھی کوئی تصور موجود نہیں۔
کہ ان کے آمدنی کے ذریعے سے لشکر کھڑے کئے جاییں۔
اورعند الطلب بادشاہ وغیرہ کو پیش کیے جایئں۔
کیونکہ اسلامی فوج بنیادی طور پر فریضہ جہاد کی ادایئگی کےلئے منظم ہوتی ہے۔
البتہ غنائم کے طور پر جو زمینیں حاصل ہوں۔
انہیں خمس نکالنے کے بعد تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
اس سے جاگیرداری نظام وجود میں نہیں آتا۔
کیونکہ یہ سب کے حصے میں آتی ہیں۔
اور چھوٹے چھوٹے قطعوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
اس تقسیم میں سپہ سالار اور تمام سپاہی مساوی ہوتے ہیں۔
کسی سالار کواس کی خدمات کے عوض بڑی بڑی جاگیر بھی دینے کی کوئی گنجائش نہیں۔
اموی بادشاہت میں جاگیریں دی جانے لگیں۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی آبائی جاگیر سمیت ایسی سب جاگیریں منسوخ کردیں۔
بعد میں یہ خرابی پھر سے شروع ہوگئی۔
لیکن اسلامی احکام پرعمل کرنے والے حکمران اس سے دور رہے ایسے حکمرانوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی کانام بھی شامل ہے۔
جو محض معمولی سی تنخواہ پر گزارہ کرنے کی وجہ سے ہمیشہ مقروض رہتے تھے۔
امام المسلمین یا خلیفہ غیر مملوکہ غیر آباد زمینوں میں سے کوئی قطعہ کسی کو ادا کردے۔
تو اس زمین کوآباد کرنے کا استحقاق اس شخص کو دوسروں سے زیاد ہ ہوگا۔
اس کا یہ بھی مفہوم لیا گیا ہے۔
کہ کوئی قطعہ زمین ایک خاص مدت تک کے لئے کسی کو عطا کردیا جائے۔
کہ وہ اس کی آمدنی حاصل کرسکے۔
امام شافعی کے نزدیک صرف بنجر زمین ہی میں سے کوئی قطعہ کسی کو دیا جاسکتا ہے۔
(فتح الباری۔
کتاب المساقاۃ باب القطایع۔
60/5) یہ ایک طرح سے آباد کار ی کا پروگرام ہے۔
جس میں ان لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
جن کی کوئی خاص خدمات ہوں۔
جس طرح انصار کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کی زمین دینی چاہیے۔
اس پرانصار نے کہا کہ اتنی ہی زمین اگران کے بھائی مہاجرین کو بھی دی جائے۔
تو وہ بحرین کے قطعات قبول کریں گے۔
یہ جذبہ ایثار دیکھ کر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ عرصہ بعد تم یہ دیکھوگے کہ لوگ اپنے آپ کودوسروں پر ترجیح دے رہے ہوں گے تو تم اس پر صبرکرنا یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملو (صحیح بخاری کتاب المساقاۃ۔
باب القطائع۔
حدیث 2376)(اثرۃ)اپنے لئے چننا اور (ایثار)دوسروں کے لئے چننا ہے۔
بعض اوقات کسی مستحق کو کوئی قطعہ زمین عطا کیا جاتا تھا۔
ان کی مذید مثالیں سنن ابو دائود کی آئندہ احادیث میں سامنے آیئں گی۔
یہ بعد کے جاگیرداری نظام سے مختلف ہے۔
جس میں اچھی اورآباد زمین لوگوں کی فرمابنرداریاں خریدنے کےلئے دی جاتی تھیں۔
اورجاگیروں کے ساتھ اس علاقے میں رہنے والے انسانوں کو بھی جاگیردارون کامملوک اور غلام بنادیا جاتا تھا۔
اسلام میں اس غرض سے جاگیریں دینے کا بھی کوئی تصور موجود نہیں۔
کہ ان کے آمدنی کے ذریعے سے لشکر کھڑے کئے جاییں۔
اورعند الطلب بادشاہ وغیرہ کو پیش کیے جایئں۔
کیونکہ اسلامی فوج بنیادی طور پر فریضہ جہاد کی ادایئگی کےلئے منظم ہوتی ہے۔
البتہ غنائم کے طور پر جو زمینیں حاصل ہوں۔
انہیں خمس نکالنے کے بعد تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
اس سے جاگیرداری نظام وجود میں نہیں آتا۔
کیونکہ یہ سب کے حصے میں آتی ہیں۔
اور چھوٹے چھوٹے قطعوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
اس تقسیم میں سپہ سالار اور تمام سپاہی مساوی ہوتے ہیں۔
کسی سالار کواس کی خدمات کے عوض بڑی بڑی جاگیر بھی دینے کی کوئی گنجائش نہیں۔
اموی بادشاہت میں جاگیریں دی جانے لگیں۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی آبائی جاگیر سمیت ایسی سب جاگیریں منسوخ کردیں۔
بعد میں یہ خرابی پھر سے شروع ہوگئی۔
لیکن اسلامی احکام پرعمل کرنے والے حکمران اس سے دور رہے ایسے حکمرانوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی کانام بھی شامل ہے۔
جو محض معمولی سی تنخواہ پر گزارہ کرنے کی وجہ سے ہمیشہ مقروض رہتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3058]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 782
بے آباد و بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
سیدنا علقمہ بن وائل نے اپنے باپ وائل رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرموت میں زمین بطور جاگیر عطا فرمائی۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 782»
سیدنا علقمہ بن وائل نے اپنے باپ وائل رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرموت میں زمین بطور جاگیر عطا فرمائی۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 782»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إقطاع الأرضين، حديث:3058، والترمذي، الأحكام، حديث:1381، وابن حبان(الإحسان):9 /166، 167.» تشریح:
راوئ حدیث: «حضرت علقمہ بن وائل بن حجر کندی حضرمی کوفی رحمہ اللہ» صدوق راوی ہے۔
ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے۔
اپنے باپ حضرت وائل اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے۔
«أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إقطاع الأرضين، حديث:3058، والترمذي، الأحكام، حديث:1381، وابن حبان(الإحسان):9 /166، 167.»
راوئ حدیث: «حضرت علقمہ بن وائل بن حجر کندی حضرمی کوفی رحمہ اللہ» صدوق راوی ہے۔
ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے۔
اپنے باپ حضرت وائل اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 782]
Sunan Abi Dawud Hadith 3058 in Urdu
علقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي