🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب نَبْشِ الْقُبُورِ الْعَادِيَّةِ يَكُونُ فِيهَا الْمَالُ
باب: مدفون مال کے لیے پرانی قبروں کی کھدائی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3088
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ يَدْفَعُ عَنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ فَدُفِنَ فِيهِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ إِنْ أَنْتُمْ نَبَشْتُمْ عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ مَعَهُ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کی طرف نکلے تو راستے میں ہمارا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: یہ ابورغال ۱؎ کی قبر ہے عذاب سے بچے رہنے کے خیال سے حرم میں رہتا تھا ۲؎ لیکن جب (ایک مدت کے بعد) وہ (حدود حرم سے) باہر نکلا تو وہ بھی اسی عذاب سے دوچار ہوا جس سے اس کی قوم اسی جگہ دوچار ہو چکی تھی (یعنی زلزلہ کا شکار ہوا) وہ اسی جگہ دفن کیا گیا، اور اس کی نشانی یہ تھی کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک ٹہنی گاڑ دی گئی تھی، اگر تم قبر کو کھودو تو اس کو پا لو گے، یہ سن کر لوگ دوڑ کر قبر پر گئے اور کھود کر ٹہنی (سونے کی سلاخ) نکال لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3088]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور ایک قبر کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ (یہ ثقیف کا جد اعلی اور قوم ثمود میں سے تھا) اس حرم میں پناہ گزیں تھا کہ اللہ کے عذاب سے بچا رہے۔ جب وہ اس سے باہر نکلا تو اسے اس مقام پر وہی سزا آ پہنچی جو اس کی قوم کو آئی تھی، چنانچہ اسی جگہ دفن کر دیا گیا۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک سلاخ دفن کی گئی تھی، اگر تم اسے اکھیڑو تو اسے اس کے ساتھ پالو گے۔ تو لوگوں نے جلدی کی اور وہ سلاخ نکال لائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8607) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی بجیر مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: قوم ثمود کے ایک شخص کا نام تھا جو ثقیف کا جداعلیٰ تھا۔
۲؎: کیونکہ حرم میں عذاب نازل نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بجير مجهول (تق : 636)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114


سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3088 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3088
فوائد ومسائل:
بلاشبہ یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
لیکن مسئلہ یہی ہے کہ کفار کی قبروں سے اگر کوئی اس طرح کا مال نکال لے تو وہ بمعنی رکاز ہوگا۔
کیونکہ کفار کی قبروں کی تعظیم اس طرح ضروری نہیں ہے۔
جس طرح کے مسلمانوں کی قبروں کی ضروری ہے۔
لہذا ان کی قبور عام زمین کے حکم میں ہوں گی۔
جسے کھود کر مدفون خزانہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3088]

Sunan Abi Dawud Hadith 3088 in Urdu