🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب ما جاء في الركاز وما فيه
باب: دفینہ کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3087
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ،عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا، قَالَتْ: ذَهَبَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ بِبَقِيعِ الْخَبْخَبَةِ، فَإِذَا جُرَذٌ يُخْرِجُ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً حَمْرَاءَ يَعْنِي فِيهَا دِينَارٌ، فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَذَهَبَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ لَهُ: خُذْ صَدَقَتَهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ هَوَيْتَ إِلَى الْجُحْرِ؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا".
ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں مقداد اپنی ضرورت سے بقیع خبخبہ ۱؎ گئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوہا سوراخ سے ایک دینار نکال رہا ہے (وہ دیکھتے رہے) وہ ایک کے بعد ایک دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ اس نے (۱۷) دینار نکالے، پھر اس نے ایک لال تھیلی نکالی جس میں ایک دینار اور تھا، یہ کل (۱۸) دینار ہوئے، مقداد ان دیناروں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورا واقعہ بتایا اور عرض کیا: اس کی زکاۃ لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے سوراخ کا قصد کیا تھا، انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں اس مال میں برکت عطا فرمائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأحکام 3 (2508)، (تحفة الأشراف: 11550) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی راویہ قریبہ لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: مدینہ کے اطراف میں ایک گاؤں کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2508)
قريبة مجهولة كما في التحرير (8664)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المقداد بن الأسود الكندي، أبو الأسود، أبو معبد، أبو عمروصحابي
👤←👥ضباعة بنت الزبير القرشية
Newضباعة بنت الزبير القرشية ← المقداد بن الأسود الكندي
صحابي
👤←👥كريمة بنت المقداد الكندية
Newكريمة بنت المقداد الكندية ← ضباعة بنت الزبير القرشية
ثقة
👤←👥قريبة بنت عبد الله القرشية
Newقريبة بنت عبد الله القرشية ← كريمة بنت المقداد الكندية
مقبول
👤←👥موسى بن يعقوب الزمعي، أبو محمد
Newموسى بن يعقوب الزمعي ← قريبة بنت عبد الله القرشية
صدوق سيء الحفظ
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل
Newمحمد بن أبي فديك الديلي ← موسى بن يعقوب الزمعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥جعفر بن مسافر التنيسي، أبو صالح
Newجعفر بن مسافر التنيسي ← محمد بن أبي فديك الديلي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3087
هل هويت إلى الجحر قال لا فقال له رسول الله بارك الله لك فيها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3087 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3087
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
شارحین حدیث لکھتے ہیں۔
جس نے کوئی جگہ کھودی نہ ہو۔
وہ رکاز نہیں بلکہ گرے پڑے مال (لقطة) کی مانند ہے۔
اور اس میں پانچواں حصہ ادا نہیں کرنا پڑتا۔
بلکہ پہلے اعلان کرنا چاہیے۔
بعد اذاں اپنے کام میں لایا جائے۔
(خطابی)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3087]