سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ
باب: عیادت کے موقع پر بیمار کے لیے دعا۔
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ، يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِلَى صَلَاةٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے: «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3107]
سیدنا (عبداللہ) بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے، تو چاہیے کہ یوں کہے: «اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ» ”اے اللہ! اپنے بندے کو شفا عنایت فرما، یہ تیری راہ میں کسی دشمن کو زخمی کرے گا یا تیری رضا کے لیے کسی جنازہ میں شریک ہو گا۔““ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”ابن السرح (احمد بن عمرو بن عبداللہ) نے «إِلَى جَنَازَةٍ» کے بجائے «إِلَى صَلَاةٍ» روایت کیا ہے، یعنی یہ بندہ نماز کے لیے جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/172) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1556)
عبد الله بن وهب المصري صرح بالسماع عند ابن حبان (715)
مشكوة المصابيح (1556)
عبد الله بن وهب المصري صرح بالسماع عند ابن حبان (715)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3107
| اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا يمشي لك إلى جنازة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3107 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3107
فوائد ومسائل:
جہاد وقتال میں حصہ لینا مسلمان کے جنازے میں شریک ہونا۔
اور نماز کےلئے مسجد میں جانا۔
انتہائی قربت کے اعمال ہیں۔
جہاد وقتال میں حصہ لینا مسلمان کے جنازے میں شریک ہونا۔
اور نماز کےلئے مسجد میں جانا۔
انتہائی قربت کے اعمال ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3107]
Sunan Abi Dawud Hadith 3107 in Urdu
عبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي