🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب اتباع النساء الجنائز
باب: عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3167
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" نُهِينَا أَنْ نَتَّبِعَ الْجَنَائِزَ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہمیں جنازہ کے پیچھے پیچھے جانے سے روکا گیا ہے لیکن (روکنے میں) ہم پر سختی نہیں برتی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3167]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا ہے، مگر ہم پر سختی نہیں کی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18122)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 29 (1278)، صحیح مسلم/الجنائز 11 (938)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 50 (1577)، مسند احمد (6/408) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (313) صحيح مسلم (938 بعد ح 1491)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطيةصحابية
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيل
Newحفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← حفصة بنت سيرين الأنصارية
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1278
إتباع الجنائز ولم يعزم علينا
سنن أبي داود
3167
نتبع الجنائز ولم يعزم علينا
سنن ابن ماجه
1577
اتباع الجنائز ولم يعزم علينا
بلوغ المرام
463
نهينا عن اتباع الجنائز ولم يعزم علينا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3167 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3167
فوائد ومسائل:
بہتر یہی ہے کہ عورتیں جنازے کے ساتھ نہ جایئں۔
اگر جایئں تو آداب شرعیہ کا لحاظ رکھنا واجب ہے، یعنی بے حجابی نہ ہو۔
بے صبری نہ ہو۔
اور رونا پیٹنا بھی نہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3167]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 463
خواتین کی جنازوں میں شرکت کا بیان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمیں جنازوں میں شرکت سے منع کر دیا گیا مگر یہ ممانعت ہم پر لازمی قرار نہیں دی گئی۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 463]
لغوی تشریح:
«نُهِينَا» صیغہ مجہول۔
«لَمْ يُعْزَم» صیغہ مجہول، یعنی یہ ممانعت ہمارے لیے لازمی قرار نہیں دی گئی۔ یہ نہی کراہت و ناپسندیدگی کے لیے ہے۔ شاید انہوں نے قرائن سے ممانعت و نہی کو کراہت پر محمول کیا ہے ورنہ درحقیقت نہی کو تحریم پر محمول کیا جاتا ہے اور نہی میں اصل بھی یہی ہے۔

فوائد و مسائل:
یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن مرفوع کے حکم میں ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں اس بات کی صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا۔ [صحيح البخاري، الحيض، حديث: 313]
➋ اس حدیث سے خواتین کی جنازوں میں شرکت ممنوع معلوم ہوتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ پہلے خواتین کو جنازوں میں شریک ہونے اور قبرستان میں جانے سے منع فرما دیا گیا ہو کیونکہ ان میں بےصبری زیادہ ہوتی ہے مگر جب ان میں اسلامی شعور کافی حد تک بیدار ہو گیا تو جس طرح آپ نے قبرستان جانے کی اجازت دے دی اسی طرح جنازے میں شرکت کی بھی اجازت دے دی ہو، چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم نے پیغام بھیجا کہ جنازہ مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئیں، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جنازہ امہات المؤمنین کے حجروں کے پاس رکھا گیا تھا تاکہ وہ جنازہ پڑھ لیں، پھر اسے مقاعد کی طرف باب الجنائز سے نکال کر قبرستان میں لے جایا گیا۔ (بعد میں) انہیں معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں نے اس عمل پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جنازہ مسجد میں نہیں لے جایا جاتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا: لوگوں کو جس بات کا علم نہیں ہوتا، اس پر کتنی جلدی تنقید کرنے لگتے ہیں، ہم پر تنقید کرتے ہیں کہ جنازہ مسجد میں لے جایا گیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء کا جنازہ مسجد ہی کے اندر ادا کیا تھا۔ [صحيح مسلم، الجنائز، باب الصلاة عني الجنازة فى المسجد، حديث: 973]
➌ اس حدیث سے درج ذیل دو مسئلے ثابت ہوئے:
ایک تو یہ کہ عورت بھی نماز جنازہ بھی شرکت کرسکتی ہے،
اور دوسرا یہ کہ مسجد کے اندر بھی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 463]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1577
عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان۔
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1577]
اردو حاشہ:
فائدہ:
پختہ حکم کامطلب حرمت کی صراحت ہے۔
یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع تو فرمایا لیکن زیادہ سختی سے نہیں۔
گویا حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرمان کے مطابق جنازے کے ساتھ عورتوں کا جانا حرام نہیں مکروہ ہے۔
اور مکروہ سے اجتناب ہی افضل ہوتا ہے۔
نماز جنازہ میں عورتوں کا شریک ہونا جائز ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی۔
تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پیغام بھیجا کہ جنازہ مسجد میں لایا جائے۔
تاکہ وہ بھی نماز جنازہ میں شریک ہوسکیں۔
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
جنازہ امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجروں کے پاس رکھا گیا تا کہ وہ جنازہ پڑھ لیں۔
پھر اسے مقاعد کی طرف باب الجنائز سے (نکال کر قبرستان میں)
لے جایا گیا۔ (بعد میں)
انھیں معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں ن اس عمل پر تنقید کی ہے۔
اور کہا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں)
جنازہ مسجد میں نہیں لے جایا جاتا تھا۔
حضرت عائشہ کو یہ بات معلوم ہوتی تو فرمایا لوگوں کو جس بات کا علم نہیں ہوتا اس پر کتنی جلدی تنقید کرنے لگتے ہیں۔
ہم پر یہ تنقید کرتے ہیں کہ جنازہ مسجد میں لے جایاگیا۔
حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاجنازہ مسجد ہی کے اندر ادا کیا تھا۔ (صحیح مسلم، الجنائز، باب الصلاۃ علی الجنازۃ فی المسجد، حدیث: 973)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1577]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1278
1278. حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہمیں جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا، لیکن اس سلسلے میں ہم پر سختی نہیں کی جاتی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1278]
حدیث حاشیہ:
بہر حال عورتوں کے لیے جنازہ کے ساتھ جانا منع ہے۔
کیونکہ عورتیں ضعیف القلب ہوتی ہیں۔
وہ خلاف شرع حرکات کرسکتی ہیں۔
شارع کی اور بھی بہت سی مصلحتیں ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1278]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1278
1278. حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہمیں جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا، لیکن اس سلسلے میں ہم پر سختی نہیں کی جاتی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1278]
حدیث حاشیہ:
(1)
طبرانی کی روایت میں مزید تفصیل ہے، حضرت ام عطیہ ؓ فرماتی ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے تمام خواتین کو ایک گھر میں جمع ہونے کا حکم دیا۔
پھر حضرت عمر ؓ کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا، انہوں نے فرمایا:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قاصد بن کر آیا ہوں۔
مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے چند ایک باتوں کے متعلق بیعت لینے کے لیے بھیجا ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گی۔
اور آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم جوان اور پردہ نشین عورتوں کو عیدگاہ لے کر چلیں اور ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم امتناعی کی کئی اقسام ہیں۔
کچھ تو ایسی ہیں جن کا ارتکاب حرام ہے اور کچھ ایسی بھی ہیں جن پر عمل کرنا پسندیدہ اور بہتر نہیں۔
ایسی نہی تحریم کے بجائے تنزیہ اور کراہت کے معنی میں ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 186/3) (2)
مذکورہ حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی عورتوں کی کمال عقل ثابت ہوتی ہے کہ وہ باریک بینی کے ساتھ مراتب احکام کو جانتی تھیں۔
حضرت ام عطیہ ؓ نے مراتب نہی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اگرچہ شارع کو مطلوب یہی تھا کہ خواتین جنازوں کے ساتھ نہ نکلیں، البتہ جنازوں کے ساتھ چلنے کے بغیر اگر جنازے میں شرکت کا موقع مل جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے مسجد میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی نماز جنازہ پڑھی۔
(صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 2252 (973)
حافظ ابن حجر ؒ نے زین بن منیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ نماز جنازہ کے لیے کوشش سے شرکت کرنے کی فضیلت صرف مردوں کے لیے ہے، کیونکہ نہی کا تقاضا تحریم یا کم از کم کراہت ہے جبکہ فضیلت سے استحباب ثابت ہوتا ہے، لہذا یہ فضیلت مردوں کے ساتھ خاص ہے، عورتوں کے لیے فضیلت سے کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
(فتح الباري: 185/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1278]

Sunan Abi Dawud Hadith 3167 in Urdu