🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب في البناء على القبر
باب: قبر پر عمارت بنانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3226
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ عُثْمَانُ: أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ، وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى: أَوْ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ حَرْفُ وَأَنْ.
اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی زیادتی کرنے سے (بھی منع فرماتے تھے)۔ سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ہے: یا اس پر کچھ لکھنے سے ۱؎ مسدد نے اپنی روایت میں: «أو يزاد عليه» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی روایت میں مجھے حرف «وأن» کا پتہ نہ لگا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3226]
سیدنا سلیمان بن موسیٰ اور ابوالزبیر رحمہما اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عثمان بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے کہا: اس کو زیادہ کرنا منع ہے (اسے اونچا کر دیا جائے)۔ اور سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ نے مزید کہا: اس پر کتبہ لگانا منع ہے۔ مگر مسدد رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں «أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ» یا اس پر زیادہ کیا جائے کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مسدد رحمہ اللہ کی روایت میں میرے لیے لفظ «وَأَنْ» اور یہ کہ واضح نہیں ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2274، 2796) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قبر پر لکھنے سے مراد وہ کتبہ ہے، جو بعض لوگ قبر پر لگاتے ہیں، اور جس میں میت کے اوصاف اور تاریخ وفات درج کئے جاتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا کہ مراد اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھنا ہے یا قرآن مجید کی آیتیں وغیرہ لکھنا ہے، کیونکہ بسا اوقات کوئی جانور اس پر پاخانہ یا پیشاب وغیرہ کر دیتے ہیں جس سے ان چیزوں کا استخفاف لازم آتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (970)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥سليمان بن موسى القرشي، أبو الربيع، أبو أيوب، أبو هاشم
Newسليمان بن موسى القرشي ← محمد بن مسلم القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← سليمان بن موسى القرشي
ثقة
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← حفص بن غياث النخعي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة حافظ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3226 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3226
فوائد ومسائل:
قبر پرمیت کے نام ونسب یا اس کی مدح ثنا کا کتبہ لگانا یا اللہ رسول کا نام یا قرآن لکھنا سبھی ناجائز ہے۔
البتہ نشاندہی کےلئے کوئی مناسب نشان لگادیا جائے تو جائز ہے۔
جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر پرایک پتھر رکھا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3226]

Sunan Abi Dawud Hadith 3226 in Urdu