سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ
باب: مسلمان لونڈی کو (کفارہ میں) آزاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3283
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ: أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْهُ أَنْ يَعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَرْسَلَهُ، لَمْ يَذْكُرِ الشَّرِيدَ.
شرید سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں، اور میرے پاس نوبہ (حبش کے پاس ایک ریاست ہے) کی ایک کالی لونڈی ہے۔۔۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3283]
سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ نے ان کو وصیت کی کہ وہ ان کی طرف سے ایک ایماندار (لونڈی یا غلام) کی گردن آزاد کر دیں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میری والدہ نے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومن گردن آزاد کر دوں، تو میرے پاس نوبی قبیلے کی سیاہ رنگ لونڈی ہے“ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا۔ ”تو کیا میں اسے آزاد کر دوں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس بلاؤ۔“ چنانچہ اسے بلایا تو وہ آئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تیرا رب کون ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: ”رسول اللہ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو، بلاشبہ یہ مومن ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں (دوسری سند میں) خالد بن عبداللہ نے اسے مرسل بیان کیا ہے اور شرید کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الوصایا 8 (3683)، (تحفة الأشراف: 4839)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/222، 388، 389)، دی/ النذور 10 (2393) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (3683 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (3683 وسنده حسن)
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
269
الجامع الكامل حدیث نمبر :
269
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الشريد بن سويد الثقفي، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← الشريد بن سويد الثقفي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله محمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | صدوق له أوهام | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← محمد بن عمرو الليثي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3283 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3283
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ کے ہاں رنگ نسل کی نہیں ایمان وعمل کی اہمیت ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں رنگ نسل کی نہیں ایمان وعمل کی اہمیت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3283]
Sunan Abi Dawud Hadith 3283 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← الشريد بن سويد الثقفي