سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب فِي كَسْبِ الإِمَاءِ
باب: لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3427
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3427]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ جانا جائے کہ کہاں سے کمایا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3587)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/141) (حسن) بما قبلہ»
وضاحت: ۱؎: جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ لونڈی نے کہاں سے کمایا ہے، حلال طریقے سے یا حرام اس کی کمائی لینا صحیح نہیں ہے، علماء کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے اس واسطے منع کیا ہے کہ لوگ ان پر محصول مقرر کرتے تھے، اور وہ جہاں سے بھی ہوتا اسے لا کر اپنے مالک کو دیتی، اگر کام نہ پاتیں تو زنا کی کمائی سے لا کر دیتیں اس واسطے ان کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا جب تک کہ اس بات کی تحقیق نہ ہو جائے کہ اس کی کمائی حلال طریقے سے ہے، بعض لوگوں کے نزدیک کمائی سے مراد زنا کاری کی کمائی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3426)
وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3426)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3427
| كسب الأمة حتى يعلم من أين هو |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3427 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3427
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
مالک کو علم ہونا چاہیے کہ کے اس کے کارندے یا بچے کہاں سے کہاں سے کس کس طرح سے کمائی کرکے لاتے ہیں۔
تاکہ حلال وطیب کا یقین ہو اور مشکوک اور حرام سے بچا اور بچایا جاسکے۔
فائدہ۔
مالک کو علم ہونا چاہیے کہ کے اس کے کارندے یا بچے کہاں سے کہاں سے کس کس طرح سے کمائی کرکے لاتے ہیں۔
تاکہ حلال وطیب کا یقین ہو اور مشکوک اور حرام سے بچا اور بچایا جاسکے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3427]
Sunan Abi Dawud Hadith 3427 in Urdu
هرير بن عبد الرحمن الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري